اس دنیاۓ فانی سے جو منہ موڑ گیا ہے

کیا چھوڑ گیا ہے

اس دنیاۓ فانی سے جو منہ موڑ گیا ہے برسوں کے جو رشتے تھے سبھی توڑ گیا ہے ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟ اور فکر عزیزوں کو ہے، کیا چھوڑ گیا ہے؟ یہ دنیاوی زندگی ایک کھیل اور تماشے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کہ جس طرح کھیل تماشے میں لگ مزید پڑھیں

برسوں چلے قتیل زمانے کے ساتھ ہم

زمانے کی چال

برسوں چلے قتیل زمانے کے ساتھ ہم واقف ہوئے نہ پھر بھی زمانے کی چال سے روکا ہے تو نے جس کو سدا عرضِ حال سے ہجرت وہ کر گیا ترے شہرِ وصال سے وہ مر گیا جب اس کی سکونت بدل گئی جیون سے بڑھ کے پیار تھا پنچھی کو ڈال سے بندھوا رہا مزید پڑھیں

میں خود کو دیکھ رہا ہوں، فسانہ ہوتے ہوئے

فسانہ ہوتے ہوئے

چراغ بجھتے جا رہے ہیں سلسلہ وار میں خود کو دیکھ رہا ہوں، فسانہ ہوتے ہوئے ریگ رواں پر تمام نقش مٹنے کو تیار ہیں۔یہ نقش مٹنے ہی کے لئے بنے ہیں۔ زندگی تیزی سے رواں دواں ہے اور ہر لمحہ فنا کے قریب تر کر رہا – کل نفس ذائقة’الموت ایک ایسی اٹل حقیقت مزید پڑھیں

جو کھلی کھلی تھیں عداوتیں مجھے راس تھیں

منافقت

جو کھلی کھلی تھی عداوتیں، مجھے راس تھیں یہ جو زہر خند سلام تھے ، مجھے کھا گئے یہ جو ننگ تھے ، یہ جو نام تھے ، مجھے کھا گئے یہ خیالِ پختہ جو خام تھے ، مجھے کھا گئے کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی وہی زاویے کہ جو عام مزید پڑھیں

گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب

گندم امیر شہر کی

گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب بیٹی مگر غریب کی فاقوں سے مر گئی معاشی اصلاحات کے سور ماؤں کا کہنا ہے کہ غریبی کا خاتمہ ہی اصل اور حقیقی مقصد ہے۔لیکن پاکستان بھر کے غریبوں کی موجود حالت بتاتی ہے کہ یہ بیسوی صدی کا ہی نہیں اکیسویں صدی کا بھی سب سے مزید پڑھیں

جس ضرب سے دل ہل جاتے تھے، وہ ضرب لگانا بھول گئے

ضرب لگانا بھول گئے

تکبیر تو اب بھی ہوتی ہے، مسجد کی فضا میں اے زاہد جس ضرب سے دل ہل جاتے تھے، وہ ضرب لگانا بھول گئے جس دور پہ نازاں تھی دنیا، ہم اب وہ زمانہ بھول گئے دنیا کی کہانی یاد رہی اور اپنا فسانہ بھول گئے منہ دیکھ لیا آئنیے میں پر داغ نہ دیکھے مزید پڑھیں

عمرِ رواں پھر نہیں مسکرائی بچپن کی طرح

عمرِ رواں پھر نہیں مسکرائی بچپن کی طرح

عمرِ رواں پھر نہیں مسکرائی بچپن کی طرح میں نے گڑیا بھی خریدی، کھلونے بھی لے کر دیکھے بچپن ہر شخص کی زندگی کا سب سے حسین اورخوبصورت حصہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو ہم بس اپنی موج مستی کی دنیا میں رہتے ہیں۔ اِدھر اُدھر، اندر باہر، یہاں تک کہ مزید پڑھیں