897

عمرِ رواں پھر نہیں مسکرائی بچپن کی طرح

عمرِ رواں پھر نہیں مسکرائی بچپن کی طرح
میں نے گڑیا بھی خریدی، کھلونے بھی لے کر دیکھے

بچپن ہر شخص کی زندگی کا سب سے حسین اورخوبصورت حصہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو ہم بس اپنی موج مستی کی دنیا میں رہتے ہیں۔ اِدھر اُدھر، اندر باہر، یہاں تک کہ ہمارا دل جہاں چاہے ہم اپنی مرضی سے آزادی کے ساتھ گھوم پھر سکتے ہیں۔ ہمیں کسی بھی قسم کی کوئی فکر،کوئی پریشانی یا کسی بھی قسم کا کوئی غم، کوئی دکھ نہیں ہوتا۔ ہمیں روکنے والاکوئی نہیں ہوتا۔ہر طرف اپنی ہی بادشاہی اور شہنشاہی ہوتی ہے۔ بچپن کا ہر ایک ایک لمحہ آپ کو پھوٹ پھوٹ کر شدت سے یاد آتا ہے۔

اس لیے ہم اپنے جذبات سے بے قابو ہو جاتے ہیں اور بس اپنی ان بچپن کی یادوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور پھر کبھی آپ کا اپنی اُن یادوں سے باہر آنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ کون ہے جس کا دل واپس اپنے بچپن میں لوٹ کر جانے کونہیں چاہے گا۔ ہر انسان کی یہی خواہش ہو گی کہ کاش وہ ایک بار پھر اپنے بچپن میں لوٹ جائے۔

میرے بچپن کے دن ، کتنے اچھے تھے دن۔۔۔۔۔
آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئی!!!

میرے بچھڑوں کو مجھ سے ملا دے کوئی
میرا بچپن کسی مول لا دے کوئی

کتنی بے لوث تھی اپنی وہ دوستی
کتنی معصوم تھی وہ ہنسی وہ خوشی

کاش پھر وہ زمانے دکھا دے کوئی
وہ گڑیوں کی شادی وہ بچپن میرے

وہ سب مل کر ایک گھر بنانے کا کھیل
کیسے سہانے بہت دن تھے پرانے

میرے بچپن کے دن ، کتنے اچھے تھے دن۔۔۔۔۔
آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئی!!!

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

عمرِ رواں پھر نہیں مسکرائی بچپن کی طرح” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں