915

گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب


گندم امیر شہر کی
ہوتی رہی خراب
بیٹی مگر غریب کی
فاقوں سے مر گئی

معاشی اصلاحات کے سور ماؤں کا کہنا ہے کہ غریبی کا خاتمہ ہی اصل اور حقیقی مقصد ہے۔لیکن پاکستان بھر کے غریبوں کی موجود حالت بتاتی ہے کہ یہ بیسوی صدی کا ہی نہیں اکیسویں صدی کا بھی سب سے بڑا چیلنج اور جھوٹ ہے جو آج بھی اسی بے شرمی کے ساتھ بولا جا رہا ہے۔

غربت بھوک اور بھوک موت اورجرم کی علامت ہے۔یونیسف کے مطابق دنیا بھر میں 22000 بچے غربت کی وجہ سے مرجاتے ہیں ۔4.3 بلین لوگ خط غربت کی آخری لکیر سے بھی نیچے ہیں اور انہیں ایک وقت کی روٹی بمشکل نصیب ہوتی ہے۔گویا دنیا کی آدھی آبادی کا مسئلہ اور روگ بدترین غربت ہے۔

میرے نزدیک حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈھونگ رچایا اسی لئے گیا ہے کہ غریبوں کو بہکایا جا سکے ، زیادہ آزادی اور زیادہ سہولت کے ساتھ بے خوف وخطر ہوکر غریبی اور غریبوں کا مزید استحصال کیا جا سکے ۔ یہ معاملہ صرف بیسویں یا اکیسویں صدی کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے ایسے ہی چلا آ رہا ہے اور اب تو حالت یہ ہے کہ غریب ،غریب تر ہو چکا ہے ۔اور امیر ،امیر تر ہوتا جا رہا ہے ہم سادہ لفظوں میں جہنیں درمیانہ طبقہ ظاہر کرتے ہیں ان کی بھی باری آ چکی ہے کہ وہ غربت کی چکی میں پستے چلے جائیں اور سفید پوشی کا جو بھرم یہ متوسط طبقے نے اپنے آپ پر سجا رکھا ہے اس کا پردہ بھی فاش ہو جائے گا-

دعا ہے کہ اللہ میرے ملک کو ایسا بنا دے کہ میرے بچے یہاں آرام سے اور عزت سے زندگی گزار سکیں۔

میرے وطن میں کرپشن عام ہے۔ ظلم زیادتی اور بے انصافی کا دور دورہ ہے۔ غریبی کو بدنصیبی بنا دیا گیا ہے۔ غریبی خوش نصیبی نہ تھی تو بدنصیبی بھی نہ تھی۔ کوئی کسی کا دکھ بانٹنے کے لیے تیار نہیں۔ کسی کی مدد کرنے کو آگے نہیں بڑھتا۔ فٹ پاتھ پر بیٹھا ایک غریب بچہ امیر شہر سے یوں مخاطب ہے

میں کہیں بھوک سے نہ مر جاوں اے امیر شہر
گر مستقبل ہوں تمھارا تو بچالو مجھ کو

Gandum Ameer e Shehar Ki Hoti Rahi Kharab
Beti Magar Ghareeb Ki Faqoon Say Mar Gayi


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں