16,090

کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں (علامہ محمد اقبال)


کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
صلی اللہ علیہ وسلم

علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ کا یہ شعر بارہا ہم نےپڑھا اس پر روشنی ڈالیں توپہلی لائن سے مراد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ان کی سنت ان کے اسوہ حسنہ پر عمل کیا جائے۔ ان کی زندگی کو نمونہ بنا کر ان جیسی زندگی گزاری جائے۔ ان سے وفا کی جائے۔انسان جس سے وفا کرتا ہے اس کی سب باتیں مانتا ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب باتیں مانی جائیں ان پر عمل کیا جائے

اور دوسری لائن اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا کی تو یہ جہاں یہ دنیا یہ مال و دولت یہ کامیابی کیا چیز ہے- اللہ پاک انسان کی قسمت قلم سے لکھتے ہیں اور جس تختی پر لکھتے ہیں اسے لوح کہتے ہیں یعنی انسان کی قسمت لوح و قلم سے لکھی جاتی ہے اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جیسی زندگی اپنا لی تو لوح و قلم آپ کے ہاتھ میں ہیں اس سے مراد ہے کہ پھر وہی ہو گا جو آپ چاہو گے- آپ کی قسمت آپ کی تقدیر آپ کی خوشی کے مطابق ہو گی اور اس میں اللہ کی خوشی بھی ہو گی

اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اگر انسان غلط خواہش کرے تو وہ بھی پوری ہو گی؟
جب زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہو گئی تو غلط خیالات اور خواہشیں دل میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا-

اللہ پاک ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور سنت پر عمل کی توفیق دے
آمین!

Ki Muhammad SAWW Say Wafa Tu Nay Ke Hum Teray Hain
Yeh Jahaan Cheez Hai Kiya, Looh o Qalam Teray Hain
Allama Muhammad Iqbal


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں