خاموشی میں راحت ہے


خاموشی میں راحت ہے
لفظوں کا سفر انسان کو تھکا دیتا ہے

(محمد جمیل اختر)

خاموشی میں راحت ہے

کہتے ہیں انسان اکثر بھیڑ میں بھی اکیلا ہوتا ہے ۔ آج کے دور میں تنہائی نا ممکن ہے لیکن اگر کبھی ایسا ہو بھی جائے تو موبائل فونزہماری تنہائی کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ہمارا اندازِ زندگی ہمارے لئے فکر پریشانی اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔جسکی وجہ مختلف کاموں کی فکر ہے جو ہمارے سر پر ہر وقت سوار رہتی ہے۔

تنہائی میں کچھ وقت گزارناہمارے لئے فائدہ بخش عمل ہے۔اس طرح ہماری مصروفیت میں اعتدال پیدا ہوتا ہے۔یہ عمل ذہن کو تازہ دم کرنے کے ساتھ ہمدردی کا جزبہ بھی پیدا کرتا ہے۔جب انسان کی شخصیت میں توازن ہوتا ہے تو اس کابرتاؤ بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اچھا ہوتا ہے۔اور اگر ہر کسی کے برتاؤ میں ایسی تبدیلی آجائے تویہ ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔

Khamoshi Mein Raaht Hay
Lfzon Ka Sfr Insan ko Thka Deta Hay


8 تبصرے “خاموشی میں راحت ہے

  1. ‏صبر کی حد بھی تو کچھ ہوتی ہے …..!!
    کتنا سنبھالے کوئی پلکوں پہ پانی ….

  2. ? ﮨﺮ ” ﻣﺜﺒﺖ ” ﺧﯿﺎﻝ
    ﺍُﺱ ﺧﺎﻣﻮﺵ ” ﺩﻋﺎ ” ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
    ﺟﻮ ” ﺯﻧﺪﮔﯽ ” ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ..

  3. کہتے ہیں نا ایک چپ سو سکھ ۔۔
    مگر میرے لیے چپ رہنا خود کو اذیت میں رکھنے سے کم نہیں ۔۔
    اکثر ہی ایسا ہوتا ہے کہ بات کر دینے کہ بعد اپنے لفظوں کی ناقدری اور توہین کا احساس بےحد تکليف دیتا ہے مگر پھر سے وہی غلطی کر دیتے ہیں یے لب خاموش نہیں رہتے 😒😒😔💔

اپنا تبصرہ بھیجیں