2,593

ہوئی مدّت کے غالب مر گیا پر یاد آتا ہے


ہوئی مدّت کے غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

مرزا اسد اللہ خان غالب

Hui Mudat Key Ghalib Mar Gaya Par Yaad Aata Hai
Wo Har Ik Baat Pay Kehna Kay Yun Hota To Kiya Hota


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ہوئی مدّت کے غالب مر گیا پر یاد آتا ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں