781

اقبال تیری عظمت کی داستاں


اقبال تیری عظمت کی داستاں کیا سناؤں
تیری زندگی پہ لکھوں تو الفاظ نہ پاؤں

کوئ نہ کرسکا کیا کام وہ تو نے
تیرے کام کی شان میں کیسے بتاؤں

کیا خوب شاعری کا انداز ہے تیرا
اک اک لفظ میں جادو سا چھپا پاؤں

بکھری امت کو ملا دیا تو نے کیسے
تیرے احسان مسلماں کو میں کیسے بتاؤں

تیرے اشعار میں نوجواں کے لیے نصیحت ھے چھپی
کاش اس قوم کو ان باتوں پر چلتا ھوا پاؤں

لوگوں کو جگانے کا جادو تھا پاس تیرے اقبال
ایسا ھی ھنر اے کاش میں بھی پاؤں

اقبال

Iqbal Teri Azmat Ki Dastaan Kia Sunaon


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں