درخت کٹ گیا لیکن وہ رابطے ناصرؔ

کٹ گیا درخت مگر تعلق کی بات تھی

کٹ گیا درخت مگر تعلق کی بات تھی بیٹھے رہے زمین پر پرندے تمام رات کھلے دلوں سے ملے فاصلہ بھی رکھتے رہے تمام عمر عجب لوگ مجھ سے الجھے رہے حنوط تتلیاں شو کیس میں نظر آئیں شریر بچے گھروں میں بھی سہمے سہمے رہے اب آئینہ بھی مزاجوں کی بات کرتا ہے بکھر مزید پڑھیں