735

آنکھ کا نور دل کا نور نہیں [علامہ محمد اقبال]

عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں
ایک بھی صاحب سرور نہیں

اک جنوں ہے کہ باشعور بھی ہے
اک جنوں ہے کہ باشعور نہیں

ناصبوری ہے زندگی دل کی
آہ وہ دل کہ ناصبور نہیں

بے حضوری ہے تیری موت کا راز
زندہ ہو تو تو بے حضور نہیں

ہر گہر نے صدف کو توڑ دیا
تو ہی آمادہ ظہور نہیں

ارنی میں بھی کہہ رہا ہوں مگر
یہ حدیث کلیم و طور نہیں

علامہ محمد اقبال

Ek Junoon Hai Key Ba-Shaur Bhi Hai
Ek Junoon Hai Key Ba-Shaur Nahin
Allama Muhammad Iqbal

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں