1,070

ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا


مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا

گرا دیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کر
اگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا

یقیں نہ آئے تو اک بات پوچھ کر دیکھو
جو ہنس رہا ہے وہ زخموں سے چور نکلے گا

اس آستین سے اشکوں کو پوچھنے والے
اس آستین سے خنجر ضرور نکلے گا

Tumhara Shehar, Tum Hi Mudai, Tum Hi Munsaf
Mujhay Yakeen Hai Mera Hi Qasoor Niklay Ga


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں