2,071

عمر کی شام ہوئی اور میں پیاسا مولا


عمر کی شام ہوئی اور میں پیاسا مولا
اب تو دریا، کوئی جھرنا، کوئی برکھا مولا

رُت کوئی صورتِ مرہم بھی میسر آتی
داغ رہ جاتا مگر زخم تو بھرتا مولا

بے مداوا جو رہا کل بھی بھری دنیا میں
اب بھی رِستا ہے وہی زخمِ تمنا مولا

دائم آباد رہیں شہر تیرے، گاؤں تیرے
میرے کندھوں پہ دَھرا ہے میرا خیمہ مولا

ریتلے دشت بھی ہیں تیری ہی خلقت سائیں
سبز موسم کا اِدھر بھی کوئی پھیرا مولا

سَیل کی طرح اُمڈتی ہوئی اِس خلقت میں
کوئی مُونس، کوئی ہمدم، کوئی اپنا مولا

ظلمتِ شب میں سدا خواب ہی دیکھوں جس کے
مجھ سے ملتا ہی نہیں ہے وہ سویرا مولا

تو کہ سنتا ہی نہیں کوئی دُہائی میری
میں کہ اب بھی ہے لبوں پہ میرے مولا مولا

دیکھ سکتا وہ جسے کھول کے آنکھیں رزمیؔ
ایک سورج تو اُبھرتا کوئی ایسا مولا

خادم رزمی

شام اور پیاسا

Umr Ki Sham Hui Aur Mein Pyasa Maula
Ab To Dariya, Koi Jhrna, Koi Brkha Maula


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

عمر کی شام ہوئی اور میں پیاسا مولا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں