1,048

اللہ کا کرم ہے یہ بھولنے کی صفت

اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں بھولنے
کی صفت دی ورنہ ایک غم ہمیشہ کے لئے غم بن جاتا

الله کا کرم ہے

کائنات کا کوئی غم ایسا نہیں ہے جو آدمی برداشت نہ کر سکے۔ انسان خوش رہنا چاہتا ہے، کون ہے جو اُداسی اور ناخوشی میں جینا چاہتا ہو، زندگی کے مشاہدے میں ایسے لوگوں سے بھی سامنا ہوتا ہے جو زندگی کی تمام تر اذیتوں اور تلخیوں کے باوجود بھی خوش رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ یہ لوگ دکھ، غم، اور اداسی جیسی کیفیات سے بالاتر ہوتے ہیں۔

انسانی زندگی کٹھن اور دشواریوں سے لبریز ہے جو لوگ اس مصافت سے تھک جاتے ہیں انہیں منزل نہیں ملتی مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنی ناکامیوں سے کام لینے کا بہتر ہنر آتا ہے وہی لوگ بالآخر اپنی منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہو کر مایوس لوگوں کے لیے ایک زندہ مثال قائم کر جاتے ہیں۔ خوشی اور غم زندگی کی وہ کیفیات ہیں جو ہر انسان پر یکے بعد دیگرے طاری ہوتی رہتی ہیں کوئی بھی انسان نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس جس طرح دن اور رات کا سلسلہ ازل سے جاری ہے اور تا ابد قائم رہے گا اسی طرح جب تک یہ زندگی ہے ہر ذی حیات انسان کو کسی نہ کسی صورت خوشی اور غم کی کیفیات سے واسطہ بھی رہے گا جس طرح نہ ہی ہر وقت دن رہتا ہے اور نہ ہی رات اسی طرح انسان بھی نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس یہ خوشی اور غم ہی ہے جو انسان کو اداسی یا مسرت سے دوچار کرتی رہتی ہے اب یہ انسان پر ہے کہ وہ ان دونوں کیفیات میں اپنی شخصیت کا توازن کس طرح برقرار رکھتا ہے-

زندگی میں چاہے خوشی آئے یا غم ہمیشہ اپنے خالک حقیقی کا خلوص کے ساتھ شکر ادا کر کے اس کو خوشی سے قبو ل کیا کرو، غم اور خوشیاں ہمارا اللہ کی طرف سے امتحان ہوتے ہیں – اور اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ک وہ کسی پر اسکی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا- خوش رہنے والے لوگ کبھی نا امید نہیں ہوتے جو لو گ سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں وہ حالات و واقعات کے مطابق زندگی بسر نہیں کرتے بلکہ وہ چند خاص رویے اپناتے ہیں اور ہر طرح کے حالات و واقعات میں ان رویوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں – واصف علی واصف نےسچ کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہنا چاہیے کہ اس نے ہمیں بھولنےکی صفت دی ورنہ ایک غم ہمیشہ کے لئے غم بن جاتا-

اَللّٰھُمَّ اِنِّی عَبدُکَ وَابنُ عَبدِکَ وَابنُ اَمَتِکَ نَاصِیَتِی بِیَدِکَ مَاضٍ فِیَّ حُکمُکَ عَدل فِیَّ قَضَائُ کَ اَساَلُکَ بِکُلِّ اسمٍ ھُوَلَکَ سَمَّیتَ بِہ نَفسَکَ اَو اَنزَلتَہ فِی کِتَابِکَ اَو عَلَّمتَہ اَحَدًا مِّن خَلقِکَ اَوِاستَا ثَرتَ بِہ فِی عِلمِ الغَیبِ عِندَکَ اَن تَجعَلَ القُراٰنَ العَظِیمَ رَبِیعَ قَلبِی وَ نُورَ صَدرِی وَجَلَا ئُ حُزنِی وَذَھَابَ ھَمِّی۔ (مناجات مقبول)

فائدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو کوئی غم و حزن یا کسی قسم کی تکلیف پہنچے اور وہ یہ(اوپر لکھی) دعا پڑھے تو اس کے غموں کے بادل چھٹ جائیں گے اور مصائب و مشکلات کی جگہ خوشی و مسرت کی لہر دوڑ جائے گی۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ سن کر عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم وہ دعا سیکھ لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اسے ضرور یاد کرلو۔

Allah Ka Bara Karm Hay Keh Us Nay Hmen Bhoolne
Ki Sift Di Wrna Aik Gham Hmesha Ky Liye Gham Bn Jata

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں