898

جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں

جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں

تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں

پھول دامن میں چند لے لیجے
راستے میں فقیر ہوتے ہیں

جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں

جو پرندے کی آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

دیکھنے والا اک نہیں ملتا
آنکھ والے کثیر ہوتے ہیں

جن کو دولت حقیر لگتی ہے
اف وہ کتنے امیر ہوتے ہیں

جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو
قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں

ہے خوشی بھی عجیب شے لیکن
غم بڑے دل پذیر ہوتے ہیں

اے عدمؔ احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

عبد الحمید عدم

Dekhnay Wala Ik Nahi Milta
Aankh Walay Kseer Hotay Hein

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں