انسان اوقات بھول جاتا ہے


شیخ سعدی فرماتے ہیں

”انسان بھی کیا چیزہے دولت کمانے کیلئے اپنی صحت کھو دیتا ہے اور پھر صحت کو واپس پانے کے لئے اپنی دولت کو کھو دیتاہے۔ مستقبل کو سوچ کر اپنا حال ضائع کرتا ہے پھر مستقبل میں اپنے ماضی کویادکرکے روتاہے۔ جیتا ایسے ہے جیسے کبھی مرنا ہی نہیں اور مرایسے جاتا ہے جیسے کبھی جیا ہی نہیں۔“

آج کا انسان اپنی اوقات بہت جلدی بھول جاتا ہے خاص کر تب جب اُس کے پاس وہ سب کچھ آجائے جس کی اُسے بہت خواہش ہو یا جس کے لیے وہ دن رات خواب دیکھتا ہو ۔انسان تب بدلتا ہے جب اسکا کردار بدلتا ہے۔ کردار سوچ بدلنے کا نتیجہ ہوتا ہے اور سوچ کا بدلاو زیادہ تر حالات سے تعلق رکھتا ہے۔لوگ موسموں کی طرح ہوتے ہیں یہ بدلاو بھی کئی طرح کا ہوتا ہے۔ بولنے کا انداز ہو یا دیکھنے کا، رخ ہی بدل جاتا ہے۔ چلنے کا انداز بھی اور ملنے کا بھی۔ گرم جوشی سردمہری میں بدل جاتی ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ نئے لوگ مل جائے تو پرانے بھول جاتے ہیں۔ یہ ماحول اور حالات بدل جانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ماحول بدل جاتا ہے، چہرے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مصروفیات بھی۔ عاجزی تکبر میں بدل جاتی ہے۔

نرم خو انسان کو سخت گیر الفاظ میں بدلتے دیکھا ہے۔ ایسے لوگوں‌کے پاس جب کوئی ایسی خوشی آتی ہے تو وہ اپنی اصلیت بھول جاتا ہے کہ وہ کیا تھا پہلے۔ کم ظرف لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے تو وہ بدل جاتے ہیں آسمان سر پر اٹھاتے ہیں۔ لوگ بھی خوش آمد کر کرکے ان کو سر پر بٹاتے ہیں۔ لوگوں کی رائے بدل جاتی ہے یہاں پر، کوئی اس کو ذہین سمجھنے لگتا ہے تو کوئی خوش نصیب کوئی قسمت دار تو کوئی محنتی کا نام سونپ دیتے ہیں حیثیت سے زیادہ عزت ملنے پر وہ اکثر تمیز نام کی چیز بھول جاتا ہے اسکا سوچ بدل جاتا ہے اور احساس برتری کا شکار ہو جاتا ہے کچھ لوگوں کا بدلاؤ نیکی کی طرف ہوتا ہے، تو کچھ ویسے ہی بدل جاتے ہیں۔ کچھ لوگ حالات کے ساتھ بدل جاتے ہیں، تو کچھ لوگ پیٹ بھرتے ہی اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔

کچرے میں پھینکی روٹیاں روز یہ بیان کرتی ہیں
پیٹ بھرتے ہی انسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے

انسان اوقات بھول جاتا ہے

Kachray Mein Phainki Rootiyaan Rooz Yeh Bayan Karti Hain
Pait Bharty Hi Insaan Apni Oqaat Bhool Jata Hai


اپنا تبصرہ بھیجیں