3,235

جواک شخص یہاں تخت نشیں تھا


تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو
اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا

چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے
تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

حبیب جالب

جواک شخص یہاں تخت نشیں تھا

Tum Say Pehle Wo Jo Ik Shakas Yahan Takhat Nasheen Tha
Us Ko Bhi Apny Khuda Honay Par Itna Hi Yaqeen Tha
Habeeb Jalib


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں