612

خدا یاد آگیا


کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر
کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آگیا

خدا یاد آگیا

مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا
تم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیا

کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر
کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا

واعظ سلام لے کہ چلا مےکدے کو میں
فردوس گم شدہ کا پتہ یاد آ گیا

برسے بغیر ہی جو گھٹا گھر کے کھل گئی
اک بے وفا کا عہد وفا یاد آ گیا

مانگیں گے اب دعا کہ اسے بھول جائیں ہم
لیکن جو وہ بوقت دعا یاد آ گیا

حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ
کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا-

Kehne Ko Zindagi Thi Bohat Mukhtasir Magar
Kuch Yun Basar Hui Kah Khuda Yaad Aa Gaya


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں