1,846

عاجزی انسان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے

عاجزی انسان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے

عاجزی انسان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے

خوش بخت ہے وہ انسان‘ جو عاجزی کرتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جاہ و مال کی دولت سے نواز رکھا ہوتا ہے۔ وہ اپنے مال ودولت سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے جو اس نے حلال کمایا ہوتا ہے اور حرام اور گناہ سے کنارہ کش رہتا ہے۔بے سہاروں پر ترس کھاتا ہے، علما کرام اور صاحبانِ علم و دانش سے روابط رکھتا ہے۔ عاجزی اورانکساری کا تقاضا یہ ہے کہ جسے تم اپنے سے حقیر تر سمجھتے ہو تو اپنے آپ کو اس سے بھی کم تر سمجھو تاکہ اسے یہ احساس ہو کہ تمہیں دنیوی مراتب کی پرواہ تک نہیں اور جو مرتبے میں تم سے بڑھ کر ہو توتم اس سے بھی اپنے آپ کو بالا تر سمجھوتاکہ اسے پتہ چلے کہ دنیوی جاہ و حشمت کی تمہاری نگاہوں میں کوئی قدروقیمت نہیں۔ جس نے ربّ کے سامنے جھکنا سیکھ لیا وہی علم والا ہے کیونکہ علم کی پہچان عاجزی ہے اور جاہل کی پہچان تکبر ہے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

اگر جھک جانے (یعنی عاجزی اختیار کرنے ) سے تمہاری عزت گھٹ جائے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا۔ (مسلم حدیث۔ 784)

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں عاجز و انکساری پیدا کریں آپ دیکھیں گے کہ ایک زمانہ آپ کے لیے جھک جائے گا۔ اپنی ذات میں لچک پیدا کریں تکبر کسی طور پر ہم سب کو زیب نہیں دیتا۔ انسانیت کی معراج عاجزی ہے۔

Aajazi
Insaan Kay waqaar Mein Izafa Karti Hai

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

عاجزی انسان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں