2,358

اب سمجھ آیا کہ موت کیوں ضروری ہے


وقت کے شکنجوں نے
خواہشوں کے پھولوں کو
نوچ نوچ توڑا ہے
کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟

موت بھی ضروری ہے

درد کے جزیروں نے
آرزو کے جیون کو
مقبروں میں ڈالا ہے
ظلمتوں کے ڈیرے ہیں
لوگ سب لٹیرے ہیں
سکون روٹھ بیٹھا ہے
ذات ریزہ ریزہ ہے
تار تار دامن ہے
درد درد جیون ہے
شبنمی سی پلکیں ہیں
قرب ھے نہ دوری ہے
زندگی ادھوری ہے
اب سمجھ آیا کہ__________
موت کیوں ضروری ہے…….!!!!

Waqt Kay Shknjon Nay
Khwahshon Kay Phoolon Ko
Noch Noch Tora Hay
Kya Ye Zulm Thora Hay


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اب سمجھ آیا کہ موت کیوں ضروری ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں