1,524

یہ سال بھی آخر بیت گیا


کوئی ہار گیا کوئی جیت گیا
یہ سال بھی آخر بیت گیا

جیت ہار

کبھي سپنے سجائے آنکھوں میں
کبھی بیت گئے پل باتوں میں

کچھ تلخ سے لمحات بھی تھے
کچھ حادثے اور صدمات بھي تھے

پر اب کہ برس اے دست میرے،
میں نے رب سے یہ دعا مانگی ہے

کوئی پل نہ تیرا اداس گزرے
کوئی روگ نہ تجھے راس گزرے

تو پھولوں کی طرح کھلا کرے
کوئی شخص نہ تجھ سے گلا کرے

تو خوش رہے آباد رہے
تیرا خواب نگر آباد رہے

تو جو چاہے وہ ہو جائے
تو جو مانگے وہ مل جائے

تیری معاف وہ ہر اک خطا کرے
تجھے ایسے ہی رب عطا کرے

Koi Haar Gaya Koi Geet Gaya
Yeh Saal Bhi Aakhir Beet Gaya


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں