جذبات کے ہزاروں ٹکڑے


جذبات بھی شیشے کی مانند ہوتے ہیں
ہلکی سی ضرب سے ہی ہزاروں ٹکڑے ہو جاتے ہیں

ہزاروں ٹکڑے

شعور “روح کے ذائقہ” کا نام ہے اور نفسیات کا جزو ہے- انسانی جزبات اسکے رشتوں سے منسوب ہوتے ہیں انسانی جزبات پر غور کریں تو عجیب سا احساس ہوتا ہے کیونکہ یہ لوہے سے زیادہ مضبوط بھی ہوتے ہیں اور شیشے سے زیادہ نازک بھی یعنی نہایت آسانی سے لمحوں کے لمحوں میں ٹوٹ جانے والے۔دنیا میں کوئی شے بھی پائیدار نہیں، یہی زندگی کی فطرت اور یہی کائنات کا راز ہے۔

ہرشے فنا ہے، اپنے رنگ بدلتی، مٹی میں ملتی اور پھر سے جنم لیتی ہے۔ درختوں کی ٹہنیوں پر سجے ہوئے خوبصورت پھول مرجھاتے اور پھر بکھر کر مٹی میں مل جاتے ہیں اور پھر اسی مٹی کی زرخیزی سے اسی پودے کی ٹہنیاں اسی طرح کے خوبصورت پھولوں سے بھر اور سج جاتی ہیں۔ ہم ان کی خوبصورتی سے متاثر ہوتے اور ان کے حسن سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں لیکن ان کی نازکی، غیر پائیداری اور فانی ہونے پر غور نہیں کرتے۔ مرجھاتےپھول،درختوں سے گرتے خزاں رسیدہ پتے اور فطرت و قدرت کے ان گنت مظاہر ہمیں یہ راز سمجھاتے اور پیغام دیتے ہیں کہ دنیا میں کسی شے کو بھی بقاء نہیں، کسی کو بھی دوام نہیں۔ لیکن انسان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ زندگی کے نشے میں مست اور گم رہتا ہے اور قدرت کے بدلتے رنگوں اور پرفریب انداز پر غور نہیں کرتا۔

اسی طرح انسانی رشتے، انسانی جزبات بھی رنگ و انداز بدلتے رہتے ہیں۔کبھی کبھی تعلقات میں انہی جزبات کی وجہ سے اتنی گہرائی اور محبت ہوتی ہے کہ لوگ یک جان دو قالب ہوتے ہیں اور ذرا سی تلخی پہ ایک دوسرے سے بھاگتے ہیں سچ ہے کہ زبان نہایت ہلکی اور بے وزن شے ہے لیکن اس سے نکلا ہوا لفظ اتنا بھاری اور خنجر کی دھار کی مانند تیز ہوتا ہے کہ اسے بڑے بڑے سخت جان اور طاقتور پہلوان بھی برداشت نہیں کرسکتے۔

میں نے فکروں کی چٹانوں کے نیچے انسانوں کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھا ہے، لفظوں کی تلوار سے انسانوں کو لہولہان ہوتے دیکھا ہے، وقت، اقتدار، دولت ، شہرت، اقتدار کی قربت اور اہمیت کی خود فریبی سے لوگوں کو بدلتے اور نئے روپ دھارتے دیکھا ہے، دہائیوں اور برسوں پرانی دوستیوں، دیرینہ تعلقات اور خونی رشتوں کو ٹوٹتے بھی دیکھا ہے، فاصلوں کا شکار ہوتے بھی دیکھا ہے، محبت کی گرمی کو سردمہری میں بدلتے بھی دیکھا ہے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں بسنے والوں کو ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے بھی دیکھا ہے اور محبت کے رشتوں کو، خون کے بندھنوں کو دشمنی میں بدلتے بھی دیکھا ہے اسی لئے انسانی جزبات اور انسانی رشتوں سے زیادہ کوئی شے ناپائیدار، کمزور اور نازک نہیں۔

Jazbaat Bhi Sheeshay Ki Manind Hotay Hein
Halki Si Zarab Se Hi Hazaron Tukray Ho Jatay Hein


جذبات کے ہزاروں ٹکڑے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں