576

سوچتا ہوں تری حمایت میں


سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
نیند آنے لگی ہے فرقت میں

ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر
سوچتا ہوں تری حمایت میں

روح نے عشق کا فریب دیا
جسم کو جسم کی عداوت میں

اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں

عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں
چیختا ہوں بدن کی عسرت میں

یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم
روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں

وہ جو تعمیر ہونے والی تھی
لگ گئی آگ اس عمارت میں

زندگی کس طرح بسر ہوگی
دل نہیں لگ رہا محبت میں

حاصل کن ہے یہ جہان خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

پھر بنایا خدا نے آدم کو
اپنی صورت پہ ایسی صورت میں

اور پھر آدمی نے غور کیا
چھپکلی کی لطیف صنعت میں

اے خدا جو کہیں نہیں موجود
کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں

جون ایلیا

Hain Daleelain Tery Khilaaf Magar
Sochta Hun Teri Himayat Mein
Jaun Elia


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں