1,149

پیڑ لگانے والے


ساۓ میں بیٹھی ہوئی نسل کو معلوم نہیں
دھوپ کی نذر ھوۓ پیڑ لگانے والے

پیڑ لگانے والے

لاکھ مسمار کیے جائیں زمانے والے
آ ہی جاتے ہیں نیا شہر بسانے والے

اس کی زد پر وہ کبھی خود بھی تو آ سکتے ہیں
یہ کہاں جانتے ہیں آگ لگانے والے

اب تو ساون میں بھی بارود برستا ہے
اب وہ موسم نہیں بارش میں نہانے والے

سر سے جاتا ہی نہیں‌ وعدہء فروا کا جنوں
مر گئے عدل کی زنجیر ہلانے والے

ہم نہ کہتے تھے تجھے، وقت بہت ظالم ہے
کیا ہوئے اب وہ ترے ناز اٹھانے والے

سائے میں بیٹھی ہوئی نسل کو معلوم نہیں
دُھوپ کی نذر ہوئے پیٹر لگانے والے

گھرمیں دیواریں ہیں اور صحن میں آنکھیں ہیں سلیم
اتنے آزاد نہیں وعدہ نبھانے والے

SAYE MAN BETHI HUI NASAL KO MALOOM NAHI
DHOOP KI NAZAR HUWE PAID LAGANE WALAY


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں