650

بچپن کی یادیں


بچپن کی یادیں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں

بچپن کی یادیں

وہ بچپن کی یادیں
وہ چھوٹی سی باتیں
بھلائیں نہیں بھول پائیں گے دن وہ

وہ معصوم سی کرنا کوئ شرارت
پھر چھپنا ماں کے آنچل میں جاکر

وہ بارش کے پانی میں ناؤ بہانا
کبھی کھیلنا، کبھی لڑنا جھگڑنا

پھر سب بھول کے دوستی پھر سے کرنا
وہ منوانا رو کے اپنی ضدیں ساری

مہربان وہ مری پیاری سی دادی
راتوں کو سننا کہانی وہ ساری

ہر روز سیکھنا بڑوں سے اچھی سی باتیں
وہ میٹھے سے دن اور مہربان راتیں

وہ کندھے پہ ڈالے چھوٹا سا بستہ
وہ دن پہلا…….

اسکول کا پیدل کا رستہ
بابا کی انگلی پکڑ کے وہ جانا

وہ چوکھٹ سے الوداع ماں کا کہنا
مہربان استاد کی شفقتیں وہ

سبق کچھ نئے اور نئ نصیحتیں وہ
چھٹی کی بیل پر بے تحاشہ بھاگنا وہ

گھر آکے پھر ماں کو سنانا وہ قصے
عہد کرنا ہم بھی بنیں گے کچھ اک دن

ذہن میں بنانا مستقبل کے منصوبے سارے
پھر اک دن گیا کھو وہ بچپن ہی سارا

بھلایا وہ سب سیکھا بچپن میں تھا جو
جوانی نے اپنا سر جب اٹھایا

وہ معصوم سی چھن گئیں خوشیاں ساری
سبق بھول بیٹھا محبت کے سارے

پھر نفرت کا پرچار کرنے لگا وہ
الگ ہی پھر ڈھنگ سے جینے لگا وہ

غلط جینے کا ڈھنگ بہت دکھ بھی لایا
کبھی ہنستا تھا جو زندگی نے رلایا

بڑی دیر سے پر سمجھ اسکو آیا
ضرورت ہے آج کی ہم کو ہوگا سنبھلنا

جو سیکھا تھا پہلے عمل اس پہ کرنا
یہ آہیں، سسکیاں اور رستے ہوئے دکھ

یہ سناٹے راتوں کے،سنسان سے رستے یہ سارے
یہ بستے گھروں میں پھیلتی ویرانیاں پھر

بدل جائیں گیں …….
چہرے ہنسنے لگیں گے

سکھایا جو رب نے وہ پھر عام ہوگا
چھٹیں گے اندھیرے اجالا بھی ہوگا

یہ دنیا پھر سے بن جائے گی جنت
انسان میں جاگے گی انسانیت

ہمیں پھر بچپن میں جانا پڑے گا
ہمیں پھر سے بچپن کو جینا پڑے گا

Bachpan Ki Yadain Kabhi Bodhi Nahi Hotin


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں