1,283

دوستی سے ڈر

لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

دوستی سے ڈر

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں
کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں

لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

دہر میں آہ بے کساں کے سوا
اور ہم کب کسی سے ڈرتے ہیں

ہم کو غیروں سے ڈر نہیں لگتا
اپنے احباب ہی سے ڈرتے ہیں

داور حشر بخش دے شاید
ہاں مگر مولوی سے ڈرتے ہیں

روٹھتا ہے تو روٹھ جائے جہاں
ان کی ہم بے رخی سے ڈرتے ہیں

ہر قدم پر ہے محتسب جالبؔ
اب تو ہم چاندنی سے ڈرتے ہیں

(حبیب جالب)

Log Drtay Hein Dushmni Say Teri
Hum Teri Dosti Say Drtay Hein

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

دوستی سے ڈر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں