غصّے کے برے اثرات


بندہ اتنا غصّہ نہیں کھاتا
جتنا غصّہ بندے کو کھاتا ہے

غصّہ آنا ايک قدرتي عمل ہے اور اس ميں پريشان ہونے کي ضرورت نہيں ہے ليکن اس کو قابو ميں رکھنا چاہيۓ تاکہ کسي بھي قسم کے برے اثر سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے – اس بات کي بھي بہت اہميت ہے کہ غصے کو ايک مثبت طريقے سے کنٹرول کيا جاۓ –

جب کبھي آپ اپنے غصے کو قابو کرنے سے قاصر ہوتے ہيں تب آپ کو بعض وجوہات کي بنا پر مختلف طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے – جو غصّہ ناقابل کنٹرول ہو وہ آپ کي سلامتي کے ليۓ اور آپ کے معاشرتي روابط کے ليۓ نہايت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے –

ہماري زندگي پر غصّے کے بہت سے برے اثرات مرتب ہوتے ہيں مثلا

* غصّہ ہمارے اندر پائي جانے والي خوشيوں کي صلاحتيوں اور توانائيوں کو کھا جاتا ہے کيونکہ غصہ اور خوشي ايک دوسرے کي ضد ہيں –

* غصّے کي وجہ سے باہمي روابط اور خانداني روابط تلخ بن جاتے ہيں –

*غصّے کي وجہ سے اجتماعي طرز کي مہارتيں نقصان اٹھاتي ہيں اور سازگار ماحول درھم برھم ہو جاتا ہے-

* غصّے کا مطلب يہ ہے کہ آپ اپنے شغل کو کھو ديں کيونکہ پيشہ ورانہ روابط اس سے خطرے ميں پڑ جاتے ہيں –

* غصّے کا مطلب آپ کي کسي بھي کام ميں شکست ہے کہ اگر آپ کے اندر غصہ نہ ہو تو بڑي آساني کے ساتھ اسي کام کو آپ خوش اسلوبي سے انجام دے سکتے ہيں –

* غصّے کي حالت ميں انسان کو ذہني پريشانيوں کا سامنا پڑ جاتا ہے اور انسان ذہني تناۆ کا شکار رہتا ہے –

* غصے کي حالت ميں ہم سے بہت ساري غلطياں سرزد ہوتي ہيں کيونکہ اس وقت ہم اپنے ذہن کا کنٹرول کھو ديتے ہيں اور ہميں پتہ ہي نہيں ہوتا ہے کہ ہم اپنا کس قدر نقصان کر رہے ہيں –

عروج فاطمہ

Bnda Itna Gussa Nahi Khata
Jitna Gussa Bnday Ko Dikhata Hay


اپنا تبصرہ بھیجیں