882

کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی


ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

مرزا اسد اللہ خان غالب

شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

چال جیسے کڑی کمان کا تیر
دل میں ایسے کے جا کرے کوئی

بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی

روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی

کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی

کیا کیا خضر نے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی

جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

مرزا اسد اللہ خان غالب

Kion Kissi Ka Gila Kary Koi


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں