637

غلط تلفظ…. مصحف


آہستہ آہستہ اسے احساس ہوا کہ وہ کتنا غلط قرآن پڑھتی تھی۔ الفاظ کو مجہول ادا کرتی تھی۔

مثلاً بِ (با زیر) بی ہوتا ہے، مگر وہ با زیر ‘بے’ پڑھتی تھی۔ اور یہ ساری امیاں، نانی دادیاں جو ہمیں قرآن سکھاتی ہیں، وہ عموماً غلط تلفظ سے مجہول ہی پڑھتی ہیں۔ س ، ص اور ث کا فرق ہی نہیں پتا چلتا۔ جب ہم زیر زبر کو بہت لمبا کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم قرآن میں ایک حرف کا اضافہ کر رہے ہیں۔ زبر کو کھینچ کر ایک حرف کا اضافہ کر رہے ہیں۔ قرآن میں تحریف کر رہے ہیں۔ معانی بدل رہے ہیں۔ انگریزی کو تو خوب برٹش اور امریکن لہجے میں بولنے کی کوشش کرتے ہیں اور قرآن جس کو عربی لہجے میں پڑھنے کا حکم ہے اور جس میں زیر زبر کو اصل سے زائد کھینچنا بھی حرام کی غلطی شمار ہوتا ہے، اس کے سیکھنے کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔

مصحف سے اقتباس

قرآن

Ghalat Talafuz


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں