737

مگر دل ہے…. فیض احمد فیض


کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسن دو عالم سے
مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی

نہیں جاتی متاع لعل و گوہر کی گراں یابی
متاع غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی

مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

سر خسرو سے ناز کج کلاہی چھن بھی جاتا ہے
کلاہ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی

بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے
جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی

فیض احمد فیض

مگر دل

Magar Dil Hai Kay Uski
Khana Weerani Nahi Jati
Faiz Ahmad Faiz


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں