884

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو ُاردو بول سکتے ہیں


نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے!

جب ہم پڑھتے تھے تو استاد تختی لکھواتے اردو حروف تہجی کی۔ روزانہ خوشخط لکھنے کے لیے ڈانٹ ڈپٹ بھی ہوتی مگر اب تو تختی قلم دوات اور گاجنی سب خواب وخیال کی باتیں ہیں۔ اردو محاورے ضرب الامثال سب کہیں دور دیس گئے۔ نہ اردو کوئی پڑھنا چاہتا ہے نہ لکھنا اور نہ ہی بولنا چاہتا ہے۔ اب تو عجیب ہی زبان ہے جس میں ہم بات کرتے ہیں جس کو ہم بولتے ہیں سنتے ہیں۔

ایک دور تھا جب میرتقی میر، مرزاغالب، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، حبیب جالب اور ان جیسے بہترین شعراء اردو ادب کا حصہ تھے اور ایک آج کا دور ہے جہاں ہر کوئی اپنی نام نہاد محبت کے ہاتھوں شکست کھا کر شاعر بنا بیٹھا ہے۔ انہیں اگر میں اردو ادب کا مجرم کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ مگر ہاں آج کے دور میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو حقیقتاً اردو ادب سے محبت کرتے ہیں اور انہی چند لوگوں کی وجہ سے اردو ادب آج بھی زندہ ہے۔

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو ُاردو بول سکتے ہیں

اسے میں افسوس کی بات کہوں یا ہماری نا انصافی کا نتیجہ کہ آج ہم اس بدترین دور سے گزر رہے ہیں کہ جب ہم یہ تو جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کی قومی زبان اردو ہے اور ہمارے درمیان رابطے کی زبان بھی یہی ہے۔ مگر اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ کہیں گم ہونے لگ گئی ہے۔ اب یہ ہم سے بچھڑتی جا رہی ہے یا اگر میں یہ کہوں کہ ہم خود اسے اپنے سے دور کر رہے ہیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

زبانیں کاٹ کے رکھ دی گئی نفرت کے خنجر سے
کانوں میں اب الفاظ کے رس کون گھولے گا؟

ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے،
ہمیں یہ ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا؟

اب بات ہمارے معاشرے کی جہاں اردو کی اہمیت بہت کم کردی گئی ہے۔ یہ دیکھ کر ہر اردو ادب سے محبت کرنے والے کو بہت دکھ ہوتا ہے کہ جب مائیں اپنے بچوں کو اردو سے زیادہ انگریزی کی طرف مائل کرتی ہیں اور کہتی ہیں کے بیٹا شکریہ نہیں، ‘تھینک یو’ کہتے ہیں۔ حالانکہ اردو ایک انتہائی میٹھی اور مہذب زبان ہے۔

جس میں باقاعدہ بڑے اور چھوٹے کی تمیز میں فرق موجود ہے۔ اردو ہماری پہچان ہے اسے مت بھولیں، اردو کو ہمیشہ آباد رکھیں۔

Saleeqay Say Hawaaoon Mein Jo Khushboo Ghool Saktay Hain
Abhi Kuch Loog Baaqi Hain Jo Urdu Bool Saktay Hain


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں