569

ہمارے پرکھوں کو کیا خبر تھی


پیڑ لگانے والے

ہمارے پرکھوں کو کیا خبر تھی!
کہ ان کی نسلیں اداس ہونگی
ادھیڑ عمری میں مرنے والوں کو کیا پتہ تھا!
کہ ان کے لوگوں کی زندگی میں،
جوان عمری ناپید ہوگی
سمے کو بہنے سے کام ہوگا
بڑھاپا محو کلام ہوگا
ہر ایک چہرے میں راز ہوگا
حواس خمسہ کی بدحواسی،
بس ایک وحشت کا ساز ہوگا
زمیں کے اندر آرام گاہوں میں،
سونے والے مصوروں کو کہاں خبر تھی!
کہ بعد ان کے تمام منظر، سبھی تصور
ادھورے ہونگے
دعائیں عمروں کی دینے والوں کو کیا خبر تھی
دراز عمری عذاب ہوگی-

HAMARE PERKHON KO KYA KHABAR THI


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں