مسکرانا حضرت محمدﷺ کی سنت


ہمیشہ مسکراتے رہوکیونکہ
یہ حضرت محمدﷺ کی سنت ہے

اگر ہم اپنے روز مرہ معاملات اور معمولات میں صرف ایک مسکراہٹ کااضافہ کرلیں تو’’ سنت، تجارت، سہولت اور برکت‘‘ کا ایک امتزاج سامنے آئے گا۔خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں: ’’آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف دنیاوی مفاد کی خاطر آتا تھا، مگر شام ہونے سے پہلے پہلے اسے دین اسلام دنیا وما فیہا سے بڑھ کر محبوب اور عزیز از جان ہوجاتاتھا۔‘‘

فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ اسلام مضبوط ہوچکا تھا۔ تمام قبائل عرب فوج در فوج دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ انہی دنوں قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آیا۔ ابھی یہ لوگ سواریوں سے اترے نہیں تھے کہ رسول اللہ ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ انہیں خوش آمدید کہا:’’بہت خوب ہے آپ لوگوں کا آنا! عزت وسرخ روئی کے ساتھ آئے ہو! ‘‘

آپ کا یہ خیر مقدمی سلوک دیکھ کر وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔ وہ اپنی سواریوں سے کود کر اُترے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے لگے۔
اللہ تعالی نے سورۃ النجم میں ارشاد فرمایا

وانہ ھو اضحک و ابکی
ترجمہ: اور بے شک وہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے۔

ہم اگر سیرت نبوی ﷺ کا مطالعہ کریں تو ہزار ہا مسائل اور مشکلات کے باوجود ہمیں پیارے آقا ﷺ کے چہرہ انور پر مسکراہٹ اور تبسم کا دیدار ہوتا ہے۔

حضور ﷺ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ فطری انداز میں رہتے، ہنسی و مزاح میں بھی شریک ہوتے اور غم پریشانی میں بھی شریک رہتے۔ کیونکہ خوشی پر مسکراہٹ اور ہنسنا اللہ کی طرف سے نعمت ہے اور پریشانی پر غم اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ ہر وقت چہرے پر بارہ بجائے رکھنا، جلال میں رہنا، کوئی بڑی شخصیت ہیں تو ان کے ماتھے پر شکن رہنا، اور جلال اتنا ہے کہ اپنے ماتحت بھی بات کرنے میں خوف محسوس کریں کہ کہیں گستاخی نہ ہو جائے، گھر کے سربراہان کا اتنا خوف کہ اپنے بیوی بچے بھی سہمے رہیں، یہ سب تو شریعت مطہرہ کی تعلیمات نہیں ہیں۔

خوشی کے موقع پر مسکرانا، ہنسنا، مزاح کرنا بھی شریعت میں داخل ہے۔ تاریخ اسلامی سے چند احادیث اور پرمزاح واقعات پیش کر رہا ہوں، تاکہ مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ علم میں اضافے کا سبب بھی ہو۔

سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی ظاہر بن حرام تھے جو دیہات میں رہتے تھے۔ ایک بار وہ شہر کے بازار میں کچھ فروخت کر رہے تھے تو پیارے آقا ﷺ نے انہیں پیچھے سے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا مگر اس نے پیارے آقا ﷺ کو نہ دیکھا تھا۔ تو وہ پکارے کون ہے؟ مجھے چھوڑو۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ پیارے آقا ﷺ ہیں تو وہ اپنی کمر کو زور لگانے لگا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے سینہ مبارکہ سے ملائے رکھے۔ نبی اکرم ﷺ نے (ازراہ مذاق) پکارا کہ اس غلام کو کون خریدے گا تو وہ بولا یارسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم اگر آپ مجھے بیچیں گے تو بہت کم قیمت ملے گی۔

میرے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا البتہ اللہ کے ہاں تو بے قیمت نہیں ہے۔ شرح السنہ

Hmesha Muskratay Raho Kiun Keh
Yeh Hazrat Muhammad Ki Sunnat Hay


اپنا تبصرہ بھیجیں