اسماء الحسنى- العليم


العليم

علم والا

العليم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔
العليم کے معنی ہیں ’’علم رکھنے والا‘‘

بہت زیادہ علم رکھنے والا، ہر اول اور آخر کو جانتا ہے جوہر چیز کو ہر وقت جاننے والا ہے۔ جس کا علم ظاہر اور باطن کو محیط ہے۔ وہ چھپائی ہوئی باتیں بھی جانتا ہے اور ظاہر کی ہوئی بھی، واجبات سے بھی باخبر ہے اور ممکنات ومحالات سے بھی، وہ ماضی سے بھی واقف ہے ، حال سے بھی اور مستقبل سے بھی چنانچہ اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ‌ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ‏ (الروم : ۴۵)
وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور وہ جاننے والا اور قدرت والا ہے۔

العلیم اس کو کہتے جو ظواہر و باطن ، مخفی اور اعلانیہ ،عالم بالا اور عالم زیریں پر ، ماضی حاضر اور زمانہ مستقبل کا علم رکھتا ہو اور غیب اور موجود کا علم بھی اسے ہو، اللہ سبحانہ ملحدوں کے لایعنی اقوال سے پاک ہے۔ جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اشیاء کے واقع ہونے سے پہلے ان کا علم نہیں رکھتا۔ اور جب کوئی چیز وجود میں آتی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ کسی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے وہ اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔

اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی آواز سے کہا۔

لَّا يَضِلُّ رَبِّىۡ وَلَا يَنۡسَى
ترجمہ میرا رب نہ بھولتا ہے (طہ ۵۲)

Al Aleem
Ilam Wala


اپنا تبصرہ بھیجیں