کتابیں ۔ محمد جمیل اختر


اُس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو حیران رہ گیا

کتابیں الماریوں سے نکل کر اِدھر اُدھر چل رہی تھیں۔

اوہ یہ کیا ہے؟

کچھ کتابیں جو کبھی مدت سے کھلی ہی نہیں تھیں وہ بہت غصے میں تھیں اور صفحوں کو پٹخ پٹخ کر اپنی گرد اُتار رہی تھیں

وہ ڈر کر باہر بھاگا، باہرگلی میں بھی کتابیں غصے میں دوڑ رہی تھیں، کچھ روتے ہوئے اپنے اندر موجود راز کے بارے میں بتا رہی تھیں

گرد کاایک طوفان تھا۔۔۔۔

اُس نے فورا موبائل نکالا اور فیس بک پر یہ سٹیٹس اپ ڈیٹ کر دیا۔۔۔۔

Kitaabain
Muhammad Jameel Akhtar


اپنا تبصرہ بھیجیں