1,798

داغ سجود اگر پیشانی پر ہوا تو کیا

سجدہ عشق ہو تو عبادت میں مزہ آتا ہے
خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے

لوگ کہتے ہیں کہ بس فرض ادا کرنا ہے
ایسا لگتا ہے کوئی قرض لیا ہو رب سے

داغ سجود اگرتیری پیشانی پر ہوا تو کیا
کوئی ایسا سجدہ بھی کر کہ زمیں پر نشان رہیں

تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کردے اے اقبال
تو جھکتا کہیں اور ہے اورسوچتا کہیں اور ہے

داغ سجود اگر پیشانی پر ہوا تو کیا

Daag E Sujood Agr Teri Pishani Per Hua To Kya
Koi Aisa Sajda Bhi Ker Keh Zameen Per Nishan Rahen

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں