1,106

دوستی اور رشتوں کی گہرائی کا احساس

احساس لفظ بذات خود اتنا نرم اور نازک ہے کہ بولتے ہوئے بھی اپنا احساس دلاتا ہے۔ جب لفظ اتنا اچھا ہو تو پھر یہ جذبہ اور اس کی کیفیت کتنی پرکیف اور حساس ہو گی۔ آج کے دور میں احساس کا جذبہ شازونادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ اور جو لوگ یہ جذبہ رکھتے ہیں ان کے دل نرم ہوتے ہیں۔ کیونکہ جن کے دل سخت اور مردہ ہوں وہ اس کیفیت سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ احساس کرنے اور کروانے والے لوگ بہت قیمتی اور لاجواب ہوتے ہیں۔ جو احساس کا قرب حاصل کرتے ہیں ان کی منزلیں بھی روشن اور ہموار ہوتی ہیں۔اور

رشتوں کی گہرائی کا احساس

“رشتوں کی گہرائی کا احساس الفاظ سے نہیں برتاوُ اور رویہ سے ہوتا ہے،،

کیونکہ احساس سے ہی رویے بنتے ہیں۔ محترم اشفاق صاحب فرماتے ہیں کہ فاتحہ لوگوں کے مرنے پہ نہیں احساس کے مرنے پہ پڑھنی چاہیے کیونکہ لوگ مر جائیں توصبر آ جاتا ہے مگر احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے۔

ایک آدمی نے ایک بہت خوبصورت لڑکی سے شادی کر لی وہ اسے بہت پسند کرتا تھا اس کا بہت خیال رکھتا تھا اسکی ہر ضرورت کا احساس کرتا تھا ۔ اچانک ایک دن اسکی بیوی کو جلد کی ایک بیماری ہو گئی وہ بیماری ایسی تھی جس میں جلد میں جھڑیاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اس لڑکی کی جلد بہت خراب ہو گئی دن بہ دن اور اسکی خوبصورتی گھٹتی گئی ۔پھر ایک دن اسکا میاں کسی کام سے گیا تھا کے سفر میں اسکے ساتھ حادثہ پیش آ گیا اور اسکی نظر جاتی رہی نظر کم آنا شروع ہو گیا ۔لکین اسکی زندگی اسی طرح گز ر تی ۔اسکی بیوی کی جلد بہت ہی خراب ہوتی گئی تو اسکی خوبصورتی ختم ہو گئی اور اسکے میاں کی نظر ختم ہو گئی ۔اندھے آدمی کو اس اسکی بیماری کا پتا نہ چلا اور انکی زندگی پر کوئی اثر نہ پڑا ۔انکی محبت اسی طرح تھی انکی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا جیسے پہلے رہتے تھے بلکل اسی طرح رہتے رہے اسی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے ۔پھر کچھ عرصے کے بعد اس کی بیوی کا انتقال ہوگیا ۔

اسکا شوہر بہت دکھی تھا اسی دکھ سے اس نے اپنی ہر چیز فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک شہر سے دوسرے شہر جانے لگا تو اچانک ایک آدمی نے آواز دی اور کہا کہ بھائی اب آپ کیسے جاؤ گے اب تک تو آپکی بیوی آپکی مدد کرتی رہی ۔اتنی دور اکیلے کیسے جاؤ گے ؟اسکے شوہر نے بولا بھائی میں اندھا نہیں ہوں مگر میں ظاہر یہ کرتا تھا کہ میں اندھا ہوں تا کہ میری بیوی کو اپنی بد صورتی کا احساس نہ ہو. میں نے جب یہ محسوس کیا کہ اپنی جلد کو لے کر میری خوبصورت بیوی بہت پریشان رہنا شروع ہو گئی ہے تو میں نے فیصلہ کیا کہ خود کو اندھا کر لیتا ہوں چاہے دکھاوے کے لئے ہی کیوں نہ تا کہ میری بیوی جس احساس کمتری کا شکار ہوتی جا رہی ہے وہ ختم ہو جائے اور ہمارے رشتے میں فرق نہ آئے آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ احساس کا دوسرا نام محبت ہے بس اسی سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اندھے پن کا دکھاوا کیا تاکہ اسےاس کی بدصورتی کا احساس نہ ہو اور نہ یہ اسے کو تکلیف ہو کیونکہ میں اسے دکھ نہیں دینا چاہتا تھا ۔وہ بہت اچھی بیوی تھی میں بس اسے خوش رکھنا چاہتا تھا۔

یہ کہانی احساس کا دوسرا نام محبت ہے بہت سبق آموذ ہے ہمیں رشتوں کا خیال رکھنا چاہے کیونکہ احساس کہ بغیر کوئی رشتہ رشتہ ہی نہیں ہوتا۔

Dosti Aur Rishton Ki Gehrai Ka Ehsas
Alfaz Say Nahi Brtao Aur Rwayya Say Hota Hay

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں