1,838

ہم نے اللہ سے کیا کہہ کے وطن مانگا تھا


ہم نے اللہ سے کیا کہہ کے وطن مانگا تھا
غلبہ اس خطے میں اسلام کو حاصل ہو گا

اور جب اللہ نے ہمیں پاک وطن بخش دیا
اس کے ہر عہد و پیماں کو توڑا ہم نے

رقص گاہوں میں اس انداز سے پائل چھنکی
جس کی آواز میں ، آوازِ اذاں ڈوب گئ

اللہ رب العزت کا ہم پر احسان ہے کہ ہمیں اپنا گھر، اپنا آزاد اور خود مختار وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان میسر ہے۔یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم اس کی عنبر بار فضاؤں میں سانس لیتے ہیں۔ہم اس کے فلک بوس پہاڑوں کی رفعتوں سے حظ اٹھاتے ہیں۔ ہم اس کے گھنے جنگلوں کے نظارے کرتے ہیں۔ ہم اس کے وسیع و عریض صحراؤں کے کھلے بازوؤں میں جھولتے ہیں کہ اگر دن کو اس کے آفتاب درخشاں کی کرنوں سے فکرو نظر کو منور کرتے ہیں، تو شب تاریک کے سناٹوں میں چاند ستاروں کی شیریں ضیاء باریوں سے کیف و حسرت کا سامان کرتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ غلام ہوتے تو کسی کے سامنے آنکھ اُٹھانا تو درکنار سانس لینا بھی دشوار ہوتا، جیسا کہ متحدہ ہندوستان میں ہمیں اچھوت سمجھا جاتا تھا۔

لیکن اب ہمیں ان نعمتوں کی قدر نہیں رہی ۔ملک خداداد کو بنانے کے لیے بیشمار قربانیاں دیں گئیں، لوگوں کے گھر اجڑ گئے۔ دختران اسلام نے اپنی عصمت بچانے کے لیے اپنی شہ رگیں کاٹیں، دریا میں کود گئیں تب جا کر ہمیں یہ وطن ملا۔ اس امید پر کہ ایسا وطن جس میں خالص اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دین کے مطابق قوانین ہوں گے جن کی بجاآوری کرتے ہوئے ہم زندگی بسر کریں گے لیکن ۔

؂ کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں

ملک کا حال یہ ہے کہ یہاں ہر کوئی بھوکا ہے کوئی اقتدار کا طالب تو کوئی شہرت کا بھوکا، کوئی دولت کا پرستار تو کوئی پیٹ کا بھوکا۔ کہیں روزگار کا بھوکا تو کہیں طاقت کا بھوکا۔ کوئی پینشن نہ ملنے کی وجہ سے خود سوزی کررہا ہے تو کوئی عصمت لٹ جانے کی وجہ سے دریا میں کود رہا ہے۔ کہیں وزیر اعظم کی کھلی کچہری میں کوئی خود سوزی کر رہا ہے گھر کا چولہا جلانے کے لیے آٹھ آٹھ سالہ بیٹیاں دلالوں کے حوالے کی جاتی ہیں۔ اک طرف امیر کی عیاشیاں ہیں تو دوسری طرف غریب کی خود کشیاں ہیں۔

کلمہ طیبہ کے نام پہ حاصل کیا گیا یہ وطن تب ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا جب لاقانونیت کا خاتمہ ہوجائے۔ قربت پروروی کی بجائے میرٹ کی بات کی جائے۔ بے روزگاروں کو روزگار دیا جائے۔ تعلیم یافتہ کو ریڑھی نہیں نوکری دی جائے۔ عدل کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ اس بوڑھے کو سہارا دیا جائے جس کے بیٹے نے خود سوزی کی ۔

آج ہمیں زوال کیوں آیا اسلئے کہ ہم ناچ گانوں میں لگ گئے ہیں آج دنیا میں جو ترقی ہو رہی ہے وہ ہمارے قرآن پاک کی وجہ سے ہے تاریخ گواہ ہے کہ کیمیاہ ہو یا سانس کا کوئی بھی فیلٹ سب کی شروعات مسلمان سائنسدانوں نے کی ہے آج ہم پھر اپنے اللہ کی طرف لگ جائے اور اپنے ملک کو اپنا گھر سمجھے تو ہماری ساری پریشانی ختم ہوجائیگی انشااللہ۔

Hum Nay Allah Say Kya Keh Kay Watan Manga Tha
Ghalba Is Khitay Mein Islam Ko Hasil Hoga
Aur Jab Allah Nay Hamein pak Wattan Bakh’sh Diya
Is Kay Har Ehad-o-Paimaan Ko Tora Hum Nay
Raqas Gahoon Mein Is Andaaz Say Payal Chanki
Jis Ki Awaaz Mein, Awaaz-e-Azaan Doob Gayi


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں