محنت کشوں کو سلام


محنت کشوں کو سلام

محنت کشوں کو سلام

چمن کو اس لئے مالی نے اپنے خوں سے سینچا تھا
که اس کی اپنی نگاهیں بہار کو ترسیں

دنیا میں مال وزر کی حوس اور جاگیردارانه نظام نے غریبوں کی زندگی کی ساری خوشیاں کشید کر لی هیں , وه محنت کش طبقہ جو اپنے خون سے اشرافیه کو راحت و آرام پهنچاتا هے خود شے کو ترستا هے اپنے حقوق کو پانے کے لئے 1986 میں محنت کشوں نے احتجاج کیا اور اس کی پاداش میں هزاروں نے جانیں قربان کیں ان هی باحوصله جاں نثاروں کی قربانیاں همیں یہ سوچنے اور جدوجهد کرنے کے لئے تیار کرتی هیں که حالات بدلنے کے لیے میدان عمل میں کودنا پڑے گا..

حقیقت یه که بنده مزدور کے اوقات سخت هیں اور اس په ستم یه که معاوضہ و مراعات بھی وه نہیں جو ان کی محنت کا بدل ثابت هو سکیں ..هم میں سے هر شخص اپنی جگه محنت کشی کر رها هے مگر نوعیت مختلف هے اور اسی مختلف نوعیت کی وجه سے تلخیاں بھی کهیں کم اور کهیں زیاده هیں

ان مزدوروں کو ضرور یاد کریں جنهوں نے اپنی جدوجهد سے آنے والوں کو راستہ دیا ,آپ بھی اپنے حصے کا دیپ جلاتے جایئے که شاید وهی دیپ کسی محنت کش کی سیاه رات میں سویرا بن جاۓ.. اپنا اور اپنے ارد گرد بسنے والے محنت کشوں کا خیال رکھیں اور انهیں یه احساس ضرور دلاتے رهیں کے وه همارے لیے کتنے اهم هیں..

ان جاں نثار محنت کشوں کو سلام

Mehnat Kashoon Ko Salam


اپنا تبصرہ بھیجیں