1,591

سکون اور خوشی کی تلاش


سکون اور خوشی کی تلاش

بابے نے لمبا سا سانس لیا اور بولا، کاکا! تم چاہتے کیا ہو؟
میں نے عرض کیا: کیا آپکو واقعی سونا بنانا آتا ہے؟
بابا نے خالی خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا، ہاں میں نے جوانی میں سیکھا تھا-
میں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے یہ نسخہ سکھا سکتے ہیں؟
بابے نے غور سے میری طرف دیکھا اور پوچھا: تم سیکھ کر کیا کرو گے؟
میں نے عرض کی: میں دولت مند ہو جاؤں گا-

بابے نے قہقہ لگایا، وہ ہستا رہا دیر تک ہستا رہا یہاں تک کہ اسکا دم ٹوٹ گیااور اسے کھانسی کا شدید دورا پڑا ، وہ کھانستے کھانستے دہرا ہوا، تقریباً بے حالی کے عالم میں دیر تک اپنے ہی پاؤں پر گرا رہا، پھرکھانستے کھانستے سیدھا ہوا اور پوچھا کہ تم دولت مند ہو کر کیا کروگے؟

میں نے جواب دیا میں دنیا بھر کی نعمتیں خریدوں گا-
اس نے پوچھا نعمتیں خرید کر کیا کروگے؟
میں نے جواب دیا میں خوش ہوں گا، مجھے سکون ملے گا-
اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا اور بولا گویا تمہیں سونا اور دولت نہیں، سکون اور خوشی چاہیے-
میں خاموشی سے اسکی طرف دیکھتا رہا، اسنے مجھے جھنجھوڑا اور پوچھا کیا تم سکون اور خوشی کی تلاش میں ہو؟
میں تب جوان تھا اور دنیا کے ہر نوجوان کی طرح میں دولت کو ہر خوشی اور سکون سے زیادہ اہمیت دیتا تھا، پر بابے نے مجھے کنفیوز کر دیا تھا اور میں نے اسی کنفیوزن میں ہاں میں سر ہلا دیا، بابے نے ایک اور لمبا قہقہ لگایا اور اس قہقے کا اختتام بھی کھانسی پر ہوا، وہ دم سمبھال کے بولا: کاکا میں تمہیں سونے کی بجائے انسان کو بندہ بنانے کا طریقہ کیوں نہ سکھا دوں؟ میں تمہیں دولت کی بجائے پر سکون اور خوش رہنا سکھا دوں؟
میں خاموشی سے اسکی طرف دیکھتا رہا اور وہ بولا انسان کی خواہشیں جب تک انسان کے وجود اور عمر سے لمبی رہتی ہیں یہ اس وقت تک انسان رہتا ہے- تم اپنی خواہشوں کو اپنی عمر اور اپنے وجود سے چھوٹا کر لو، تم خوشی بھی پا جاؤ گے اور سکون بھی، اور جب تم خوشی اور سکون بھی پا جاؤ گے تو انسان سے بندے بن جاؤ گے-

مجھے بابے کی بات سمجھ نا آئی بابے نے میرے چہرے پہ لکھی تشقیق پڑھ لی تو وہ بولا، تم قرآن پڑھو اللہ خواہشوں میں بکھرے لوگوں کو انسان کہتا ہے، اور اپنی محبت میں رنگے خواہشوں سے آزاد لوگوں کو بندہ، اس کے بعد بابے نے کامران کی بارہ دری کی طرف اشارہ کیا اور بولا اسکو بنانے والا بھی انسان تھا- وہ اپنی عمر سے لمبی اور مضبوط عمارت بنانے کی خواہش میں مبتلا رہا- وہ پوری زندگی دولت بھی جمع کرتا رہا پر اس دولت نے اور اس عمارت نے اسے خوشی اور سکون نہ دیا- خوش میں ہوں- اس دولت مند کی گری پڑی بارہ دری میں برستی بارش میں بے امان بیٹھ کر-
میں نے بے صبری سے کہا: اور میں بھی،
اس نے قہقہ لگایا اور جواب دیا نہیں تم نہیں- تم جب تک تانبے کو سونا بنانے کا خواب پالتے رہو گے تم اس وقت تک خوشی سے دور بھٹکتے رہو گے- تم اس وقت تک سکون سے دور رہو گے- بابے نے اس کے بعد زمین سے چھوٹی سی ٹہنی توڑی اور فرش پر لگا کر بولا: لو میں تمہیں انسان کو بندہ بنانے کا نسخہ بتاتا ہوں:

اپنی خواہشوں کو کبھی اپنے قدموں سے آگے نہ نکلنے دو
جو مل گیا اس پر شکر کرو، جو چھن گیا اس پر افسوس نہ کرو
جو مانگ لے اسکو دے دو، جو بھول جائے اس کو بھول جاؤ
دنیا میں بے سامان آئے تھے بے سامان واپس جاؤ گے،سامان جمع نہ کرو
ہجوم سے پرہیز کرو، تنہائی کو ساتھی بناؤ
مفتی ہو تب بھی فتویٰ جاری نہ کرو
جسے خدا ڈھیل دے رہا ہو اس کا کبھی احتساب نہ کرو
بلا ضرورت سچ فساد ہوتا ہے، کوئی پوچھے تو سچ بولو نہ پوچھے تو چپ رہو
لوگ لذت ہوتے ہیں اور دنیا کی تمام لزتوں کا انجام برا ہوتا ہے
زندگی میں جب خوشی اور سکون کم ہو جائے تو سیر پر نکل جاؤ، تمہیں راستے میں سکون بھی ملےگا اور خوشی بھی
دینے میں خوشی ہے اور وصول کرنے میں غم
دولت کو روکو گے تو خود بھی رک جاؤ گے، چوروں میں رہو گے تو چور ہو جاؤ گے،سادھوں میں بیٹھو گے تو اندر کا سادھو جاگ جائےگا
اللہ راضی رہے گا تو جگ راضی رہے گا، وہ ناراض ہوگا تو نعمتوں سے خوشبو اڑ جائے گی
تم جب عزیزوں، رشتہ داروں ،اولاد اور دوستوں سے جڑنے لگو تو جان لو کہ اللہ تم سے ناراض ہے
جب تم اپنے دل میں دشمنوں کے لیے رحم محسوس کرنے لگو تو سمجھ لو کہ تمہارا خالق تم سے راضی ہے
اور ہجرت کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا

بابے نے لمبی سانس لی اس نے میری چھتری کھولی اور میرے سر پر رکھی اور فرمایا: جاؤ تم پر رحمتوں کی یہ چھتری آخری سانس تک رہے گی، بس ایک چیز کا دھیان رکھنا کسی کو خود مت چھوڑنا، دوسروں کو فیصلہ کرنے کا موقع دینا، یہ اللہ کی عادت ہے، اللہ کبھی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا، مخلوق اللہ کو چھوڑتی ہے، اور دھیان رکھنا جو جا رہا ہو اسکو جانے دینا- مگر جو واپس آرہا ہو اس پر کبھی اپنا دروازہ بند مت کرنا یہ بھی اللہ کی عادت ہے اللہ واپس آنے والوں کے لیئے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے- تم یہ کرتے رہنا تمہارے دروازے پر میلہ لگا رہےگا-

خوبصورت ویڈیو شیئر کریں

Sukoon Aur Khushi Ki Talaash


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں