5,808

اے پردہ پوشی کرنے والےاللہ میرے عیب چھُپا


یا ستّار العُیُوب
میرے عیب چھُپا

میرے عیب چھُپا

میں اشکوں کو بہاتی ہوں …
دعا کو ہاتھ اُٹھاتی ہوں …
کبھی سجدوں میں گرتی ہوں …
بدن کو بھی جھکاتی ہوں …
زباں سے کہہ نہیں پاتی …
مگر اپنے سیاہ دل میں …
یہی الفاظ دہراتی ہوں …
کہ جب ہوں آخری سانسیں …
زباں پہ ورد ہو تیرا …
وہ روح سرشار ہو یا رب …

جو دنیا میں تڑپتی ہے …
اٹھائیں لوگ جب مجھ کو …
فرشتے تیری رحمت کے …
میرے ساتھ چلتے ہوں …
زمیں کی سطح کے نیچے …
دبا دیں جسم جب میرا …
میرے ابیض لبادے پر …
جہاں کی گرد پڑتی ہو …
تو اے نور السماء …
تیرے انوار کی بارش …
مجھے نم تب بھی کرتی ہو …
سوالوں کے جوابوں تک …
مجھے تم پاس کر دینا …
میری ہر اک خطا یا رب … !

مجھے تم معاف کر دینا …
نکل بھاگے گی دنیا جب …
کوئی اپنا نہیں ہو گا …
مجھے اپنا بنا لینا …
تو رحمت میں چھپا لینا …
اسود اور ابیض کی جب تقسیم ہو مولا …
منور نور سے اپنے …
میرا چہرہ بھی کر دینا …
ذلت سے نہ گڑھ جائیں …
میری آنکھیں میرے الله … !

حوضِ کوثر کی نعمت سے …
مجھے سرشار کر دینا …
محمد صلى الله عليه وسلم کی نگاہوں سے …
میرے عیب چھپا لینا …
اور اپنی رحمت سے …
غضب کو ٹھنڈا کر لینا …
میرے نفس پر میں نے …
کیے ہیں جو کروڑوں ظلم …
میرے آقا … میرے مولا … !
میرے رحمٰن … اے الله … !

مجھے مرحوم کر لینا …
مجھے محروم نہ کرنا …
مجھے ظالم نہ کہہ دینا …
گو کہ ہوں بڑی مجرم …
گو کہ ہوں بڑی ظالم …
ستاروں سے زیادہ ہیں …
ہزاروں سے زیادہ ہیں …
گناہ ہیں بے شمار اپنے …
شماروں سے زیادہ ہیں …
مگر فعال لما یرید …!
تو جب دے حکم ” وامتا زوا ”
مجرموں میں نہ کر دینا …
جو تجھ کو دیکھتے ہونگے …
تو ان کو دیکھتا ہو گا …
بڑے مسرور وہ ہونگے …
بہت سرشار وہ ہونگے …
مجھے ان میں تو لے جانا …
تو قادر ہے میرے مولا … !

جسے چاہے گا بخشے گا …
مجھ پہ عفو و کرم کرنا …
الہی … !
میں تو عاجز ہوں …
بس …
تو راضی مجھ سے ہو جانا …
تو راضی مجھ سے ہو جانا …
آمین یا رب العامین … !

Ya Sattar – ul – Ayub
Mere Aaib Chupa


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “اے پردہ پوشی کرنے والےاللہ میرے عیب چھُپا

اپنا تبصرہ بھیجیں