یہ جو محبت کا “م” ہے نا


ایک بابا جی کہتے تھے
پتّر ! یہ جو محبت کا “م” ہے نا
یہ سرا سر ” محمدﷺ ” ہے

محمدﷺ

رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت ھمارے ایمان کا حصہ ھے ورنہ ھمارا ایمان نا مکمل ھے اور یہ کہناعین ایمان ہے کہ محبت ہے ہی نام محمدﷺ کا ہے۔ دنیا میں فتنے تو روزِ اوّل سے ہی اٹھتے رہے ہیں لیکن وہ کیسا فتنہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو نجد کیلئے بددعا سے باز رکھا۔ ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ جو طائف کے بازار میں اسلام مخالف لہروں سے پتھر کھا کر لہولہان ہوئے مگر ان کےلئے بد دعا نہیں کی بلکہ دعا ہی کرتے رہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے، ان کی نگاہِ نبوت یہ دیکھ رہی تھی کہ آج جو لوگ مجھ پر پتھر برسا رہے ہیں عنقریب وہ وقت آئے گا کہ یہ سب کے سب اسلام قبول کرکے مجھ پر اپنی جانیں نچھاور کریں گے آج پتھر برسا رہے ہیں کل پھول برسائیں گے ۔
مرے آقا کی زمیں ہے وہ زمیں کہ
جہاں خاک نشیں ؛ خلد نشیں ہوتا ہے

فلسفی ؛ فکر کی رکھتا ہے گماں پر بنیاد
رہ نما اہل محبت کا یقیں ہوتا ہے

عشقِ پیغمبرِ حق کا ہے یقینا اعجاز
مجھ پہ باطل اثر انداز نہیں ہوتا ہے

ایک درد ایسا بھی ہوتا ہے محبت میں کہ
درد تو ہوتا ہے احساس نہیں ہوتا ہے

Aik Baba Ji Kehtay Thay
Ye Jo Muhabbat Ka “Meem” Hay
Ye Srasr MUHAMMAD Hay


اپنا تبصرہ بھیجیں