1,042

حیات


کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی
جلتی رہی حیات بڑی خاموشی کے ساتھ

کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی

دنیا بھی پیش آئی بہت بے رخی کے ساتھ
ہم نے بھی زخم کھائے بڑی سادگی کے ساتھ

اک مشت خاک آگ کا دریا لہو کی لہر
کیا کیا روایتیں ہیں یہاں آدمی کے ساتھ

اپنوں کی چاہتوں نے بھی کیا کیا دیئے فریب
روتے رہے لپٹ کے ہر اک اجنبی کے ساتھ

جنگل کی دھوپ چھاؤں ہی جنگل کا حسن ہے
سایوں کو بھی قبول کرو روشنی کے ساتھ

تم راستے کی گرد نہ ہو جاؤ تو کہو
دو چار گام چل کے تو دیکھو کسی کے ساتھ

کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی
جلتی رہی حیات بڑی خامشی کے ساتھ

اختر امام رضوی

Koyi Dhuwaan Utha Nah Koyi Roshani Hui
Jalti Rahi Hayaat Bari Khamoshi Kay sath


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں