وطن پاک کا دفاع


خون کے آخری قطرے تک
ہم وطن پاک کا دفاع کریں گے

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

وطن پاک کا دفاع

ابھی قوم اگست میں قیام پاکستان کی خوشیاں ہی منا رہی ہوتی ہے ۔کہ ہماری تاریخ کے سنہری دن یاد دلانے ستمبر کا مہینہ شروع ہو جاتا ہے ۔جی ہاں وہی ستمبر جب ہمارے ازلی اور بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں ہمارے ملک پر حملہ کر دیا تھا۔اسے شائد یہ گمان رہا ہو گا کہ ہم سے کم تعداد میں ہونے اور کم اسلحہ و گولہ بارود کی وجہ سے افواج پاکستان زیادہ دیر تک اس کا مقابلہ نہ کرسکیں گی۔اس لیے بد بخت دشمن کو نہ صرف اپنی فتح کا یقین تھا ۔بلکہ وہ لاہور میں رات کا کھانا کھانے کا پلان بھی بنائے ہوئے تھا۔جن کی نیتوں میں فتور ہوتا ہے وہ ہمشیہ دنیاوی لاو لشکر پر ہی بھروسہ کیا کرتے ہیں ۔ مگر ایک ایسا ملک جو قائم ہی اسلام کے لیے ہوا ہو ۔ اس کے جانباز بیٹے بنا ہتھیاروں کے بھی ایسے ایسے کارنامے کر گئے تھے کہ دنیا آج بھی ان کی بہادری کے گن گاتی ہے ۔چھ ستمبر جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اس حملے کے جواب میں ہماری بہادر فوج نے جس بہادری اور جوش و جذبے سے وطن عزیز کا دفاع کیا تھا اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔
1965کی جنگ میں صدر ایوب خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہماری بہادر فوج نے غیور عوام کے تعاون سے دشمن کا ایسے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔کہ دشمن کے ہوش ٹھکانے آگئے تھے۔ہماری قوم ہر جگہ ہر وقت اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہی تھی۔اور دنیا نے دیکھ لیا کہ جدید دور میں بھی جنگیں صرف ہتھیاروں سے ہی نہیں جیتی جا سکتی ہیں بلکہ جنگ جیتنے کے لیے جنگی سازو سامان کے ساتھ جذبہ حب ا لوطنی بھی بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔یہ جذبہ حب الوطنی ہی تھا کہ بدمست دشمن کے ٹینکوں کے آگے ہمارے جوان اپنے سینوں پر بمب باندھ کر لیٹتے رہے اور دشمن کو نیست و نابود کرتے ہوئے خود جنت مکیں ہوتے رہے تھے۔بھارت نے گیدڑ کی طرح رات کی تاریکی میں حملہ کیا تھا جس کا جواب ہماری بہادر افواج نے دن کی روشنیوں میں اس کو دینا شروع کیا اور ایسا جواب دیا کہ ہماری فوجیں دشمن کے علاقے میں بہت آگے تک چلیں گئیں۔اس جنگ میں قوم میں جذبہ جہاد پیدا کرنے میں جہاں جنرل ایوب خان کی ولولہ انگیز اور جاندار تقریر تھی وہیں اس جنگ میں ہمارے شاعروں موسیقاروں اور گلوکاروں نے بھی اپنے فن کا انمول مظاہرہ کیا ۔میڈم نور جہاں کے گائے ہوے ملی نغمے آج بھی ہمارے دلوں میں ویسا ہی جذبہ پیدا کر دیتے ہیں۔ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ ساتھ شوکت علی کا شمار بھی ان خوش قسمت گلوکاروں میں ہوتا ہے جن کو جنگ میں اپنے بہادر سپاہیوں کے خون گرمانے کے سبب آج بھی سارا ملک عزت سے دیکھتا ہے ۔پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے لکھاریوں نے اپنے قلم سے محبت وطن کا حق یوں اد ا کیا تھا کہ وہ ایسے ترانے لکھ گئے جو ساری قوم کے دلوں کی آواز بن گئے تھے۔
آج اس جنگ کو پچاس سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے ,مگر ہمارا دشمن آ ج بھی اپنی ناپاک نظریں اس مقدس سرزمیں کی طرف لگائے ہوے ہے۔آج بھی طاقت کے نشے میں چور ہماری سرحدوں پر جدید اسلحے سے لیس فوجیں جمع کر کے ایک اور جنگ کے لیے تیار نظر آتا ہے ۔آج کے مہذب دور میں ساری دنیا جنگوں سے نفرت کا اظہار کرتی رہتی ہے ۔دنیا اپنے عوام کی بہتری کے منصوبے بناتی ہے اور ہمارا گھٹیا دشمن آج بھی ہمارے وجود کو ختم کرنے کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔۔مگر ہمارا دشمن ہر بار بھول جاتا ہے کہ ہم ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو جیتے بھی شان سے ہیں اور دشمن کے مقابلہ میں مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے جان دینے سے پہلے دشمن کو ناقابل یقین نقصان پہنچا تے ہیں۔شہادت کے بلند درجوں کے متوالے دشمن کے مقابلے میں ہمیشہ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔جب بھی دشمن نے للکاراہے ۔اس دھرتی کے بہادر سپوت محاذ پر دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ دشمن کو واپس اس کے علاقے میں پہنچا دیا۔اور پھر جانبازی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے اورقوم کا سر فخر سے بلند کرتے رہے۔ہماری فوج ہمیشہ ہی بہادری اور جرات کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ امور بھی اپنی مہارت کا لوہا پوری دنیا میں منواتی رہے گی۔ اورخون کے آخری قطرے تک ہم وطن پاک کا دفاع کریں گے۔

Khoon Kay Aakhari Qatray Tak
Hum Wattan Pak Ka Difaa Karain Gay
Tumhein Wattan Ki Hawaein Salam Kehti Hein


اپنا تبصرہ بھیجیں