1,135

جس دن قرآن سمجھ میں آگیا


جس دن قرآن سمجھ میں آگیا
ُاس دن نہ کوئی مسلک ہوگا نہ فرقہ

جس دن قرآن سمجھ میں آگیا

قرآن برکت، رحمت اور ہدایت کی کتاب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اور ہم نے قرآن کو نصیحت(سمجھنے) کیلئے آسان کردیا تو کوئی ہے جو سوچے سمجھے۔ اگر ہم قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھتے تو کبھی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا شکار نہ ہوتے۔ کسی مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ کے رسولﷺ کےساتھ عشق اور محبت کا اظہار نہ کرے۔ عشق کی بڑی اہمیت ہے مگر قرآن عشق کو اطاعت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال برباد نہ کرلو“

آیت کی مطابق عشق اور محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسولﷺ کی سنت پر عمل کیا جائے جو اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت نہیں کرےگا اسکے اعمال برباد ہوجائینگے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ نہیں کہا کہ مسلمان اللہ اور اسکے رسولﷺ کو چھوڑ کر ایسے مذہبی رہنماﺅں کی پیروی کریں جو خود اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت نہیں کرتے۔مسلمان اگر قرآن کی درج ذیل اساسی اور مرکزی نوعیت کی آیت پر غور کرلیتے تو کبھی فرقہ واریت کا شکار نہ ہوتے۔ ارشاد ربانی ہے۔

”اس کتاب (قرآن) میں دو طرح کی آیات ہیں ایک محکمات (واضح) جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات (غیر واضح) جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ (کجی) ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انکو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں حالاں کہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا“۔

افسوس ہم نے محکمات (واضح) آیات کو نظر انداز کرکے اور متشابہات پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر فرقہ بندی کرلی۔ہم تفسیرات، تشریحات اور توضیحات میں پڑ کر قرآن کی اصل روح کو ہی چھوڑ بیٹھے جس کی وجہ سے انتہا پسندی اور فرقہ واریت نے جنم لیا۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ مسلمان تمام الہامی کتب اور ادیان پر ایمان لائیں اور ان میں فرق نہ کریں۔ جب مسلمان اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق نہ کرنے کے پابند ہیں تو وہ اسلام میں فرقہ بندی کیسے کرسکتے ہیں- فرقہ واریت کے بارے قرآن پاک میں آیات بڑی واضح اور دو ٹوک ہیں ان کو پڑھنے کے بعد کوئی مسلمان فرقہ واریت کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ارشاد ربانی ہے۔

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو“۔

مولانا مودودی کے مطابق اللہ کی رسی کا مطلب دین ہے جس پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات سے مسلمان ہٹے اور انکی دلچسپیاں جزئیات کی طرف مائل ہوئیں پھر ان میں لازمی طور پر تفرقہ اور اختلاف رونما ہو جائے گا۔ جو اس سے پہلے اُمتوں کو انکے اصل مقصد سے منحرف کرکے دنیا اور آخرت کی رسوائیوں میں مبتلا کرچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں سے مخاطب ہے کہ حقیقت میں تم سب کا تعلق ایک ہی امت سے ہے مگر تم مختلف گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے ۔ ارشاد ربانی ہے۔

” یہ تمہاری امت حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔ پس تم میری عبادت کرو۔ مگر (یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ) انہوں نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا“۔

قرآن پاک کی ان واضح آیات کے بعد جو لوگ قرآن کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی کررہے ہیں انہیں اپنی عاقبت سنوارنے کیلئے قرآن مجید کو ترجمے سے پڑھ لینا چاہیئے کیونکہ جن پر وہ دنیا میں سہارا کررہے ہیں وہ ان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے۔قرآن اور سیرت دونوں انتہا پسندی نہیں بلکہ اعتدال اور میانہ روی کا درس دیتے ہیں۔

Jis Din Quran Samajh Mein Aa Gya
Us Din na Koi Maslik Ho Ga Na Firqa


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “جس دن قرآن سمجھ میں آگیا

  1. ہاں جس دن رسول اللہ کی عظمت دلوں میں بس گئی اس دن ہر شخس یہ پہچان لےگا کے ایمان والے کون ہیں اور ایمان کے ڈاکو کون ہیں، کیونکہ
    سچا غلام رسول کبھی حضور کی عزت پر حملہ نہیں دیکھ سکتا

اپنا تبصرہ بھیجیں