حرام اور سکون دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے


حرام اور سکون
دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے

مطلب

’’جن سے اللہ خوش ہے انہیں حلال کاموں میں سکون دے دیتا ہے، اور جن سے اللہ ناراض ہے انہیں حرام کاموں میں سکون دے دیتا ہے۔‘‘ اور حرام کا سکون اور حلال کا سکون کبھی اکٹھے نہیں مل سکتے۔

حرام اور سکون

ایک شخص تب تک سکون نہیں پاتا جب تک وہ شراب کے نشے میں دھت نہیں ہوجاتا کیونکہ اس نے اپنا سکون شراب میں تلاش کرلیا ہے؛ اور ایک شخص تب تک نہیں سو پاتا جب تک وہ عشا کی نماز ادا نہیں کرلیتا، کیونکہ اس نے اپنا سکون نماز میں تلاش کرلیا ہے۔ ایک شخص تب تک بے چین رہتا ہے جب تک وہ زنا نہیں کر لیتا کیونکہ اس نے زندگی کا سکون زنا میں تلاش کرلیا ہےاور ایک شخص جب تک قرآنِ پاک کی تلاوت نہ کرلے تو اسے سکون نہیں آتا کیونکہ اس نے اپنا سکون اللہ کے کلام میں ڈھونڈ لیا ہے۔

ایک شخص کو سکون حاصل کرنے کےلیے چائے کا ایک کپ ہی کافی ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ ایک اچھی کتاب پڑھ کر سکون حاصل کرلیتے ہیں۔ کچھ لوگ اچھے کام میں سکون تلاش کرلیتے ہیں۔ کچھ لوگ سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھ کر سکون میں آجاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو سکون تاریخ کے مطالعے سے مل جاتا ہے۔ کچھ لوگ سکون کےلیے کلا سیکی گانے کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ سیرت النبیﷺ پڑھ کر سکون کی نعمت حاصل کرتے ہیں، اور کچھ نعت پڑھ کر سکون سے سرشار ہوجاتے ہیں۔

لہذا اگر کوئی شخص حرام اور ناجائز کام کرکے بھی چین کی نیند سو رہا ہے تو آپ سمجھ لیجیے کہ اللہ نے اس کے دل پر مہر لگادی ہے۔ اللہ یقیناً اس سے ناراض ہے۔ اس نے یہ سکون اللہ کو ناراض کرکے حاصل کیا ہے اور اللہ اسے اس زندگی میں یہ موقع دینا ہی نہیں چاہتا کہ وہ سکون کے حلال طریقے تلاش کرے۔

Hraam Aur Skoon
Dono Akthay Nahi Ho Sktay


اپنا تبصرہ بھیجیں