نعمت کا ملنا آزمائش ہے


نعمت کا ملنا آزمائش ہے
کہ تم نے شکر ادا کیا یا نا شکری کی

نعمت کا ملنا آزمائش ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَـلَائِ، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَـلَاھُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَہُ الرِّضٰی، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السُّخْطُ۔
” بڑا ثواب، بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو کسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے، جو اس آزمائش پر راضی ہوا (اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان نہ رکھا) تو اس کے لیے رضا ہے اور جو آزمائش پر ناراض ہو (صبر کی بجائے غلط شکوے اور گمان کیے) تو اس کے لیے ناراضی ہے۔ ”

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جنہیں پسند کرتا ہے انھیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے، تاکہ وہ اطاعت پر مضبوط ہو کر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جو آزمائش انھیں پہنچی ہے اس پر وہ صبر کریں، تاکہ انھیں بغیر حساب کے اجر و ثواب دیا جائے اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو آزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کو پاک سے، نیک کو بد سے اور سچے کو جھوٹے سے جدا کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَo وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ} (۲۹؍العنکبوت : ۲۔ ۳) ’’
کیالوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کی بھی آزمائش کی جو اُن سے پہلے تھے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْامِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآئُ وَ الضَّرَّآئُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ} (۲؍البقرۃ : ۲۱۴) ’’
کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگدستی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے : اللہ کی مدد کب ہو گی؟ سن لو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔ ‘‘

علامہ عبد الرحمن بن ناصر سعدیؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے :
’’اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ آیت میں خبر دے رہے ہیں کہ لازمی طور پر وہ اپنے بندوں کو خوشحالی، تنگی اور مشقت میں مبتلا کر کے ان کا امتحان لے جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کا امتحان لیا، لہٰذا یہ ایک نہ بدلنے والی سنت جاریہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کے دین و شریعت پر کاربند ہو گا یقیناً وہ اس کا امتحان لے گا۔ ‘‘

Naimt Ka Milna Azmaish Hay
Keh Tum Nay Shukr Ada Kia Ya Na Shukri Ki


اپنا تبصرہ بھیجیں