1,730

١١ ستمبر – تیرے بعد


بے اثر ہو گۓ سب حرف نوا تیرے بعد
کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

تو بھی دیکھے تو زرا دیر کو پہچان نہ پاے
اسی بدلی کوچے کی فضا ترے بعد

اور تو کیا کسی پیمان کی حفاظت ہوتی
ہم سے ایک خواب نہ سنبھالا گیا ترے بعد

قائداعظم محمد علی جناح ؒکراچی کے ایک مشہور و معروف تاجرجناح پونجا کے گھرپیدا ہونے والا بچہ جو بچپن ہی سے دیانت دار،ہونہار،اور فہم و فراست میں اپنی مثال آپ تھا۔قائد اعظم کی انتھک کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان بالاخر14 اگست 1947ءکو دنیا کے نقشے پہ ابھرا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کوان کی اصول پسندی، مستقل مزاجی، فرض شناسی اورایمان داری کی وجہ سے پاکستا ن کے پہلے گورنر جنرل بنایا گیا بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس عہدے پر سرفرازی،قائد کی بے لوث خدمات کا اعتراف تھا۔ کیونکہ صرف جناح کی قیادت اور درخشندہ شخصیت ہی مسلمانوں کو مطمئن ومتحرک کر سکتی تھی۔بحثیت گورنر جنرل قائد اعظم کی حیثیت بے مثل تھی ان کی حیثیت مروجہ طرز حکومت میں محض ایک روایتی سربراہ مملکت کی نہیں تھی،بلکہ انہیں وہ حیثیت حاصل تھی جو کہ بانی پاکستان اور بابائے قوم کے لیے وقف تھی ایسی شخصیت جنھیں نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی مانتے تھے۔قائد اعظم کے کارنامو ں اور تاریخی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹینلے والپرٹ نے تحریر کیا کہ چند افراد نے تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی نمایاں کوشش کی،اور صرف چند نے دنیا کا نقشہ تبدیل کیا،لیکن شائد ہی کسی رہنما کو قومی ریاست قائم کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہو۔محمد علی جناح نے یہ تینوں کارنامے انجام دیے۔

قائد اعظم ایک ہمہ گیر عمل سیاسی رہنما تھے یہ ان کی سچی اور پر خلوص جدوجہد کانتیجہ تھاکہ بے شمار دشواریوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایک مقتدر مملکت پاکستان وجود میں آئی۔ قائد اعظم پاکستان کو مضبوط و مستحکم،ترقی یافتہ اور خود کفیل بنانا چاہتے تھے مگر زندگی نے ان کو مہلت نہ دی اور وہ مختصر علالت کے بعد 11ستمبر1948ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔
قائد اعظم کہتے تھے کہ میرا کام اب ختم ہوچکا ہے اب مجھے مرنے کا افسوس نہ ہوگا، چندبرس قبل یقینا میری آرزو تھی کہ میں زندہ رہوں اس لیے نہیں کہ مجھے دنیا کی تمنا تھی یا میں موت سے خوف کھاتا تھابلکہ اس لیے کہ قوم نے جو کام میرے سپرد کیا تھا اور قدرت نے جس کام کے لیے مجھے چنا تھا،میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا سکوں۔وہ کام پورا ہوگیا ہے میں اپنا فرض نبھا چکاہوں، پاکستان بن گیا ہے۔اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اس کی تعمیر کرے اورناقابل تسخیر اور ترقی یافتہ ملک بنائے۔حکمران حکومت کا کام نظم و نسق، دیانت داری،اور محنت سے چلائے۔

صد افسوس کہ قائداعظم جس پاکستان کو مضبوط و مستحکم،ترقی یافتہ اور خود کفیل دیکھنا چاہتے تھے آج اسی پاکستان کی ہم نے چو لیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور وہ ترقی کی راہ سے بھٹک کرگداگری کی راہ پرآن پڑا ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔سونا اگلتی ذرخیز زمینیں،سمندر،دریا،پہاڑ،میدان، سونے، چاندی، تانبے، قیمتی پتھر، کوئلے کے ذخائر، قدرتی نمک کے ذخائر، قدرتی گیس، تیل سال میں چار موسم، پاکستان کپاس کی پیداوار کے حوالے سے دنیاکاپہلا ملک، چینی پیدا کرنے والا 5واں،گندم پیداکرنے والا9واں،پھر بھی پاکستان کے حکمرانوں کا بھیک مانگناعوام کی سمجھ سے بالاتر ہے۔بھلا جس کے گھر میں پیٹ بھرنے کے لیے کھانا ہو۔جس کے پاس تن ڈھکنے کے لیے کپڑا موجود ہو۔جس قوم کے تھوڑی سی محنت کرنے پر تاب ناک مستقبل اس کے قدم چومے اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دوسروں کے سامنے دست دراز کرے۔ وہ قوم جس پر زکواۃ دینا فرض ہو وہ قوم خود غیر مذہب لوگوں سے جھولی پھیلائے صدقہ خیرات مانگ رہی ہے۔

قائد اعظم جس قوم کو معاشی چکی میں پسنے سے بچانا چاہتے تھے آج اسی قوم کا برا حال ہے اور ایسا صرف اس لیے ہوا ہے کیونکہ ہم نے قائد اعظم محمد علی جناح کی ایمان داری، دیانت داری،مستقل مزاجی،فرض شناسی،روشن خیالی اور عمدہ اصولوں کوبھی ان کے ساتھ ہی دفن کردیاہے۔ آج ہم اپنے بڑے بڑے دفتروں میں بڑے فخرکے ساتھ اپنے قائد کی بڑی سی تصویر لگاتے ہیں کہ ہم تو بڑے محب وطن،اور قائدانہ سوچ کے حامل ہیں، اور پھر اسی دفتر میں بیٹھ کرنا انصافی، بددیانتی، رشوت،سفارش،اقربا پروری اوردوسرے بہت سے معاملات میں سارا سارا دن ہیر پھیرکرتے رہتے ہیں اور ہماری پشت پر لگی ہے قائد کی تصویر، کیا یہ ان کی پر خلوص قربانی کی توہین نہیں ہے اگر ہم ان کی سیاسی بصیرت اورعمدہ اصولوں سے رو گردانی نا کرتے تو یقیناآج ہمارا حال کچھ اور ہوتا۔مگر ہم نے نہ صرف ان کے احسانات بلکہ ان کے اقوال و عمل کو بھی فراموش کردیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری نو جوان نسل بھی اپنے عظیم قائد کی پر وقار زندگی سے پوری طرح آگاہ نہیں کب ان کے سامنے ایمان داری، دیانت داری،مستقل مزاجی،فرض شناسی،روشن خیالی اور عمدہ اصولوں کا مظاہرہ کیا ہی کب ہے۔افسوس کہ ہم اپنے ساتھ ساتھ نوجوان نسل جسے قائد اعظم قوم کا سرمایہ کہتے تھے،اس کو بھی تباہ و برباد کر رہے ہیں۔

Be-Asar Ho Gay Sab Harf-e-Nawa Tere Baad
Kiya Kahein Dill Ka Jo Ahwal Hua Tere Baad
Tu Bhi Daikhay To Zara Dair Ko Pehchan Na Pay
Aisi Badli Kouchay Ki Fiza Tere Baad
Aur To Kia Kissi Peeman Ki Hifazat Hoti
Hum Say Ik Khaab Sambhala Na Gaya Tere Baad


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں