628

ماں


ماں

لفظ’’ ماں‘‘ ایسا فقرہ ہے جو دونوں ہونٹوں کے ملانےکے بغیر ادانہیں کیاجاسکتا لفظ ماں سنتےہی دل و دماغ ایسے تروتازہ ہوجاتے ہیں جیسے بارش بنجر زمین کو تروتازہ کر دیتی ہے۔

ماں کےبغیرگھرہمیشہ ویران نظرآتاہے۔اللہ تعالیٰ نے ماں کو یہ درجہ عطا کیا کہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ ماں اولاد کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماں کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ماں کا سایہ سر سے اٹھا لیا جاتا ہے۔

آج کل کی اولاد اتنی لاچار ہے کہ اس کے پاس وقت نہیں۔ اگر ماں بیمار ہو جائے،یا ماں کو ایک مستقل تیماردار کی ضرورت ہو یا وہ اسپتال میں داخل ہو جائے تو ہم سارے بہن بھائی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں… ’یہ بھائی کا فرض ہے‘‘ ، ’’نہیں بھابی کا ‘‘ ، ’’بیٹیوں کو ماں کا خیال رکھنا چاہیے…‘‘ اس طرح کے خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے اور بالآخر ایک نرس پر سب کا اتفاق ہو جاتا ہے کہ اس میں رقم خرچ ہوتی ہے، وقت نہیں… جس ماں نے وقت کا ایک ایک لمحہ اولاد پر خرچ کیا ہوتا ہے اس کی اولاد کتنی لاچار ہو جاتی ہے کہ اس کے پاس وقت کی کمی ہے… یہ ہر نسل کا المیہ ہے۔ اصل میں انسان فطرتا ناشکرا ہے، احسان فراموش ہے اور جب کسی اوپری مقام پر پہنچ جاتا ہے تو ان چیزوں کی قدر کرنا چھوڑ دیتا ہے جن کے سبب وہ اس مقام تک پہنچتا ہے۔

جن کی مائیں نہیں ہیں وہ تو اپنی ماؤں کے لیے دعاؤں کے نذرانے بھیج سکتے ہیں مگر جن کے پاس یہ نعمت موجود ہے، ان کے ہاتھ میں ابھی بھی وقت کی طنابیں ہیں، ابھی سے اپنی ماں کی قدر کریں، اگر آپ سے کوئی غفلت ہو چکی ہے تو اس سے معافی مانگ لیں اور اگر نظر انداز کرنے کی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا ہر طرح ازالہ کریں۔ ماں کا ظرف اور اس کا دامن بہت وسیع ہوتا ہے، اس کے آنچل میں محبت کی گرمی اور خوشبو کا امتزاج ہے۔ آج آپ اسے محبت دیں، کل یہ محبت پلٹ کر آپ کی اولاد کی طرف سے آپ کو ملے گی۔ سب اپنی ماں کو عقیدت کے پھول پیش کریں اور اسے کہیں… ماں تجھے سلام!!!!

بیشک ماں باپ کا وجود اس دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔اللہ ہمیں اپنے ماں باپ کی قدر و منزلت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے-آمین

اے اللہ ہمارے ماں باپ کو سلامت رکھ اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھ اور ہمیں ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطاءفرما۔

آمین

MAAN
Kadmon main Jis K Janat Ho
Us K Sir Ka Mukaam Kya Ho Ga


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں