1,230

فنا ہونے سے ڈرتا ہے


یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے
کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے

مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے

نہ بس میں زندگی اس کے نہ قابو موت پر اس کا
مگر انسان پھر بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے

عجب یہ زندگی کی قید ہے دنیا کا ہر انساں
رہائی مانگتا ہے اور رہا ہونے سے ڈرتا ہے

راجیش ریڈی

فنا ہونے سے ڈرتا ہے

Ajab Yeh Zindagi Ki Qaid Hai Dunia Ka Har Insaan
Rahai Mangta Hai Aur Reha Honay Say Darta Hai


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں