634

مجھے شکر گزار بندہ بنا دے


شکرگزاری اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شکر اور اہلِ شکر ہیں، اور سب سے مبغوض کفر اور اہلِ کفر ہیں۔ قرآن میں انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں۔ قرآن میں بھی بارہا شکر گزاری کی تعریف کی گئی ہے۔

اِنَّا هَدَيۡنٰهُ السَّبِيۡلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوۡرًا‏ ﴿۳﴾
(اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا
سورة الدھر ﴿۳﴾

شیخ سعدیؒ کی گلستان میں ایک روایت ہے کہ

’’میں نے کبھی زمانے کے ناموافق حالات کی شکایت نہیں کی۔ نہ کبھی تکلیفوں پر اظہارِ ناگواری کیا۔ جس حال میں رہا، خوش رہا، اور خدا کا شکر ادا کرتا رہا کہ کہیں اس سے بھی زیادہ پریشانی میں نہ مبتلا ہوجاؤں۔ خدا نے جس حال میں رکھا اس پر صبر و شکر کیا۔ لیکن جس وقت میرے پاؤں ننگے تھے، جوتا بھی میسر نہ تھا، میں بہت پریشان اور ننگے پاؤں دمشق کی جامع مسجد پہنچا۔ وہاں میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پیر ہی نہیں تھے۔ اس کو دیکھ کر میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور اپنے ننگے پیروں پر صبر کیا۔ جس شخص کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے اُس کو بھنا ہوا مرغ بھی ساگ پات کے برابر معلوم ہوتا ہے، اور جس شخص کو اچھا کھانا میسر نہیں ہے اس کے لیے اُبلا شلجم بھی بھنے ہوئے مرغ کے برابر ہے!‘‘

اے میرےرب!

بندۂ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر معاملے اور ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر اس کو خوشی اور راحت و آرام پہنچے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اور اگر اُسے کوئی دکھ اور رنج پہنچتا ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے، اور یہ صبر بھی اُس کے لیے سراسر خیر اور موجبِ برکت ہوتا ہے۔ شکر کرنے والوں کے لیے اللہ کی محبت بہت بڑھ جاتی ہے۔ پہلی گزری ہوئی اقوام میں بھی شکرگزاری کے جذبے کا اللہ رب العزت نے اتنی محبت سے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ شکر گزاری ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیر انسان کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ ہمیں ہر حال میں اللہ ربّ العزت کا شکر ادا کرنا چائیے۔ جو نعمتیں اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہیں ہم انکا شمار تک نہیں کرسکتے۔ انسان بنانا اور مسلمان گھرانہ میں پیدا کرنا،حضور ﷺ کا امُتی ہونا، عقل سلیم کے ساتھ تمام جسمانی اعضاء دینا، یہ وہ نعمتیں ہیں جسکا شکر ہم تمام عمر سجدہ میں بھی پڑے رہیں پھر بھی ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن انسان بڑا جلدباز اور نا شکرا ہے، کیا یہ اللہ کا کرم نہیں ہے کہ اس نے ہمیں صحت و تندرستی، مال و جائیداد، عقل و علم، اہل و عیال، عزت و شان ، حسن و وجاہت کے ساتھ زندگی کا اعلی معیار دیا ہے،جب انسان کے اندر اللہ کی شکر گزاری پیدا ہوتی ہے تو اسکے اندر عاجزی اور انکساری بھی پیدا ہوتی ہے اور وہ اللہ کے احسانات پر شکریہ کے ساتھ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان کرتا ہے اور انسے محبت اور خدمت کا جذبہ اجاگر ہوتا ہے۔ اللہ ہم گناہگارہوں کو ناشکری سے محفوظ رکھے اور ہر حال میں اللہ کی رضا میں راضی رکھے۔ آمین۔

رَبِّ ٱجۡعَلۡنِى
اے میرےرب!
مجھے شکر گزار بندہ بنا دے

آمین

Rabbi-Ajal’ni
!Ay Merey Rabb
Mujhay Shukar Guzaar Bandaa Banaa Day
!Aameen


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں