791

آؤ بیٹھیں کسی ستارے پر


بہہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر
ایک دریا کہ ہے کنارے پر

جو تناور تھا سب درختوں میں
ٹکڑے ٹکڑے پڑا ہے آرے پر

پاؤں لٹکا کے جانبِ دنیا
آؤ بیٹھیں کسی ستارے پر

آنے جانے کی سب کو جلدی ہے
کوئی رکتا نہیں اشارے پر

عشق میں فائدہ نہیں ہوتا
کام چلتا ہے یہ خسارے پر

مر چکی ہیں علامتیں ناصر
نزع طاری ہے استعارے پر

نصیر احمد ناصر

پاؤں لٹکا کے جانب دنیا

Paaon latka Kar Janib e Dunia
Aao Baithain Kissi Sitaray par
Naseer Ahmad Nasir


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں